رسائی کے لنکس

logo-print

وائٹ ہاؤس ’ این ایس اے‘ کے بارے میں بیان بازی سے گریزاں


امریکی محکمہٴ انصاف کا کہنا ہے کہ خفیہ معلومات افشا کرنے کے جرم کے ارتکاب کی چھان بین کا آغاز ہو چکا ہے، لیکن محکمے نے کوئی مزید معلومات فراہم نہیں کی۔

سی آئی اے کا ایک سابق ملازم، جو امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی میں کنٹریکٹ پر کام کیاکرتا تھا، کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے ایک انتہائی خفیہ پروگرام کے بارے میں دستاویزات اور تفصیل اِس لیے افشا کیں تاکہ ’ دنیا بھر کے لوگوں کے اِس بنیادی حق کا تحفظ ‘ کیا جا سکے۔

اتوار کے روز ستائیس سالہ ایڈورڈ سنوڈن نے ہانگ کانگ میں کہا کہ اُنھوں نے ہی اُن اخباری رپورٹوں سے پردہ اٹھایا تھا جِن میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر، امریکی حکومت فون کالز اورانٹرنیٹ کے استعمال کی نگرانی کر رہی ہے۔

اخباری خبروں میں کہا گیا ہے کہ سنوڈن پیر کے روز ہانگ کانگ کے ہوٹل سے جا چکے ہیں، اور یہ نہیں معلوم کہ وہ کدھر اور کس مقام پر ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ملک میں پناہ لے سکتے ہیں، جو آزادی اظہار اور بیرونی مداخلتِ بے جا کے حق میں نہیں۔

اِس سلسلے میں، جب وائٹ ہاؤس کے ترجمان سے معلوم کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ اِس اطلاع کو افشاء کرنے والے یا خفیہ معلومات پر ہونے والی تفتیش کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتے۔

تاہم، امریکی عہدے دار اِن رپورٹوں کومسترد نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ پروگرام اِس طرح سے وضع کیا گیا ہے کہ ٹیلی فون کالز کو سُنا جائے اور اِس طرح سے حاصل کردہ ڈیٹا کے باعث متعدد ہشت گرد سازشیں روکی گئی ہیں۔

امریکی محکمہ ِانصاف کا کہنا ہے کہ خفیہ معلومات افشا کرنے کے جرم کے ارتکاب کی چھان بین کا آغاز ہو چکا ہے، لیکن محکمے نے کوئی مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
XS
SM
MD
LG