رسائی کے لنکس

logo-print

کوبانی کے ایک تہائی حصے پر شدت پسند قابض: رپورٹ


کوبانی جسے ’عین العرب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے وہاں دولت اسلامیہ اور کرد ملیشیا کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ اُدھر عراق میں بھی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے گئے۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم نے جمعرات کو بتایا ہے کہ سنی شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شام کے سرحدی علاقے کوبانی کے ایک تہائی سے زائد حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایک روز شدت پسند دو اضلاع میں داخل ہوگئے تھے جہاں کرد ملیشیا فورس تین ہفتوں سے ان کے ساتھ برسرپیکار تھی۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بھی یہاں لڑائی جاری رہی اور دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے یہاں پیش قدمی بھی کی۔

تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے فون پر خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ " دولت اسلامیہ نے کوبانی کے ایک تہائی سے زائد حصے پر کٹرول حاصل کر لیا ہے جن میں تمام مشرقی علاقے، شمال مشرق اور جنوب مشرق کے کچھ حصوں پر قبضہ شامل ہے۔"

شہر کے مغرب میں جمعرات کو ایک بڑا دھماکا سنا گیا اور فضا میں سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔

دولت اسلامیہ نے رواں ہفتے کے اوائل میں کوبانی کے مشرقی سرے پر اپنا پرچم لہرایا تھا جس کے بعد سے امریکہ کی زیرقیادت بین الاقوامی اتحاد میں شامل لڑاکا طیاروں کی طرف سے شدت پسندوں پر کی جانے والی کارروائیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

امریکہ کی زیرقیادت شمالی شام کے علاقے کوبانی میں کئی فضائی حملے کیے گئے، اس علاقے میں دولت اسلامیہ کی پیش قدمی روکنے کے لیے کرد ملیشیاء لڑائی لڑ رہے ہیں۔

امریکی فوج نے کہا کہ اردن کی مدد سے بدھ کو دولت اسلامیہ کے آٹھ ٹھکانوں پر حملے کیے گئے۔ کوبانی جسے ’عین العرب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اُس کے بیشتر حصے پر اب بھی کردوں کا کنٹرول ہے۔

عراق میں بھی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے گئے۔

دولت اسلامیہ نے جمعرات کو ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اُس نے عراقی فورسز کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

آسٹریلیا کی فوج نے جمعرات کو کہا کہ اُس کے لڑاکا طیاروں نے پہلی مرتبہ عراق میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے زور دیا کہ دہشت گردوں سے لڑنے میں عراقی حکومت کی مدد کی جائے کیوں کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو اپنے سخت گیر موقف کو نا ماننے والے ہر شخص کو ہلاک کر دیتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا گروہ ہے جس نے دنیا کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے اور اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دریں اثنا امریکہ اپنے ایک ریٹائرڈ جنرل جان ایلن اور سفیر برٹ مکگرک کو دو روز کے لیے ترکی بھیج رہا ہے تاکہ وہ وہاں عہدیداروں کو دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے آمادہ کر سکیں۔

ترکی کی پارلیمنٹ نے اپنی فورسز کو شام اور عراق میں کارروائی کی اجازت دے رکھی ہے لیکن تاحال ترک فورسز نے جنگجوؤں کے خلاف ایسی کوئی کارروائی نہیں کی۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ بھی توقع ہے کہ جمعرات کو ترکی پہنچیں گے جہاں وہ صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم احمد داؤد اغلو سے ملاقات کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے بدھ کو کہا تھا کہ امریکی فوج کوبانی میں کرد جنگجوؤں کی محدود مدد ہی کر پا رہی ہے کیوں کہ شام کی زمینی صورت حال عراق سے مختلف ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سرحد پر ’بفر زون‘ یا رکاوٹ بنانے کی تجویز دی ہے جس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ فرانس اور برطانیہ نے بھی اس تجویز کی حمایت ظاہر کی ہے۔

لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ چیز ابھی زیر غور نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG