رسائی کے لنکس

شام میں خفیہ امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا راز فاش


ایسی حساس نوعیت کی فوجی معلومات شائع ہونے سے اتحادی افواج کو خطرہ درپیش ہو سکتا ہے اور اس سے داعش کے خلاف جاری جنگ متاثر ہونے کا خدشہ  موجود ہے۔

پینٹاگون نے ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی ایناڈولو کی طرف سے شام کے شمالی علاقے میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کی تصاویر شائع کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی حساس نوعیت کی فوجی معلومات شائع ہونے سے اتحادی افواج کو خطرہ درپیش ہو سکتا ہے اور اس سے داعش کے خلاف جاری جنگ متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی ایناڈولو نے منگل کے روز اس بارے میں ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں کردوں کے زیر کنٹرول شام کے شمالی علاقے میں پھیلے ہوئے 10 امریکی فوجی اڈوں کے تقشے بھی شامل ہیں۔

اس مضمون میں ہر امریکی فوجی اڈے کی تفصیل کے ساتھ ساتھ فوجیوں کی تعداد کے علاوہ ممکنہ طور پر فرانسیسی فوج کے خصوصی دستوں کی موجودگی کا مقام بھی بتایا گیا ہے۔

یہ امریکہ اور ترکی کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے تازہ ترین واقعہ ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان میجر جوش جیکس نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس رپورٹ اور تصاویر کی اشاعت پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ذریعے ترکی کو امریکی تشویش سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ پینٹاگون نے اپنے پیغام میں کہا ہے:

’’اگرچہ ہم اپنے طور پر اُن ذرائع کی تصدیق نہیں کر سکتے جن کی مدد سے یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے، ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہو گی اگر ہمارے ایک اہم نیٹو اتحادی نے جان بوجھ کر یہ خبر شائع کرتے ہوئے ہمارے فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘‘

امریکہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم Peace Action سے وابستہ محقق پال کاویکا مارٹن نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں روس اور ایران کے فوجی اڈے پہلے سے موجود ہیں اور امریکی اڈے وہاں بین الاقوامی قوانین کے تحت قائم کئے گئے تھے۔ اب ترکی بھی وہاں کسی قسم کی فوجی موجودگی کا خواہشمند ہے کیونکہ شام کا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے اُس کے اپنے مفادات ہیں اور وہ کرد جنگجوؤں کو بھی کنٹرول کرنا چاہتا ہے جو ترکی کی حکومت کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے امریکہ دونوں فریقین کے ساتھ رابطے میں رہا ہے۔

بدھ کی دوپہر سے اس مضمون کے کچھ حصوں کو حذف کر دیا گیا ہے۔

ترکی سرد جنگ کے زمانے سے امریکہ کا قریبی اتحادی اور نیٹو کا رکن رہا ہے تاہم کئی ماہ سے امریکہ اور ترکی کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے جس کی وجہ امریکہ کی طرف سے کرد جنگجوؤں کی بڑھتی ہوئی حمایت ہے۔

امریکہ شام کے شمالی علاقے سے داعش کو نکالنے کی خاطر کرد جنگجوؤں کی مدد کرتا رہا ہے۔

پینٹاگون کردوں کو شام میں امریکہ کا قریبی اتحادی گردانتا ہے جبکہ ترکی کردوں کی عسکری تنظیم پیپلز پروٹیکشن یونیٹس (YPG) کو کردستان ورکرز پارٹی کی ذیلی شاخ سمجھتا ہے ۔ کردستان ورکرز پارٹی برسوں سے ترکی کے خلاف لڑتی آئی ہے اور امریکہ نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اینڈولو کا کہنا ہے کہ مذکورہ مضمون میں امریکی فوجی تنصیبات کے شائع شدہ نقشے سٹلائیٹ اور جنگ جووؤں کی طرف سے تیار کردہ ویڈیو ز کے ذریعے حاصل کئے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ شام میں موجود امریکی فوجیوں کی کل تعداد کتنی ہے۔

پینٹاگون کے مطابق یہ تعداد 500 ہے جبکہ دیگر ذرائع بتاتے ہیں کہ شام میں داعش کے خلاف لڑنے والوں کی مدد کیلئے 1,500 کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں۔ان امریکی فوجیوں نے اہم ہوائی اڈوں اور دیگر تنصیبات کا انتظام بھی سنبھال رکھا ہے۔

اُدھر صدر ٹرمپ نے شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کیلئے باغیوں کو فراہم کی جانے والی خفیہ امداد کا پروگرام بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت باغیوں کو اسلحہ اور دیگر سامان فراہم کیا جاتا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس اقدام کا فیصلہ کئی ماہ قبل کر لیا گیا تھا اور امریکی امداد میں بتدریج کمی واقع ہوتی گئی تھی۔ تاہم اب اس بات کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ روس اس امریکی فیصلے کا خیر مقدم کرے گا کیونکہ روس شام کے صدر بشارالاسد کا حامی ہے اور اُن کی حکومت کے خلاف لڑنے والوں کو مسلسل بمباری کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG