رسائی کے لنکس

logo-print

تیونس کے لیے فوجی امداد میں اضافہ کیا جائے گا: امریکہ


نائب امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ"ہمارا مقصد قوم کی آزادی اور تحفظ کے لیے خطرہ بننے والوں کو شکست دینے کے لیے ان (تیونس) کی استعداد کار کو بڑھانا ہے۔"

امریکہ کی طرف سے رواں سال تیونس کے لیے فوجی امداد میں اضافے کے علاوہ اس کے فوجیوں کو تربیت میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔

یہ بات نائب امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے تیونس کے وزیراعظم حبیب الصید سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ تیونس کو مزید آلات، ہتھیار اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔

"ہمارا مقصد قوم کی آزادی اور تحفظ کے لیے خطرہ بننے والوں کو شکست دینے کے لیے ان (تیونس) کی استعداد کار کو بڑھانا ہے۔"

2011ء میں عوامی تحریک کے نتیجے میں صدر زین العابدین بن علی کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا تھا اور جس کے بعد سے تیونس کو کافی عرصے تک بدامنی اور انتشار کا سامنا رہا۔

اسی دوران یہاں اسلامی شدت پسندی میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور گزشتہ ماہ ہی ایک عجائب گھر پر حملے میں کم از کم 21 غیر ملکی سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

تیونس کے حکام یہ خدشہ ظاہر کرتے آرہے ہیں کہ تشدد کی لہر لیبیا سے ان کے ہاں منتقل ہو سکتی ہے جہاں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے حالات بدامنی اور تشدد کا شکار ہیں۔

بلنکن کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ تیونس کی فوج کو سرحدی امور سے متعلق تربیت دے گی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ اس ملک کی فوج کو تربیت فراہم کرے گا۔

امریکی عہدیدار نے فوجی امداد کی تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس میں 2015ء میں 200 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

ایک اور امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال یہ امداد چھ کروڑ ڈالر تھی۔

XS
SM
MD
LG