رسائی کے لنکس

خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایرانی سرگرمیاں ناقابلِ برداشت: امریکہ


اخباری کانفرنس سے قبل ایک اعلان میں، اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ اس بات کا ’’ناقابل تردید ثبوت پیش کریں گی‘‘ کہ ایران نے اپنی بین الاقوامی ذمے داریاں پوری نہیں کیں اور اپنی سرگرمیوں پر پردہ ڈال رکھا ہے

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے جمعرات کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، ’’ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر مقامت پر عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیوں‘‘ کی نشاندہی کی ہے۔

ہیلی کے زیرِ بحث ایران کے جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ تھی، جس میں امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی شامل تھے؛ جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بیلسٹک میزائل کی سرگرمیاں جاری نہ رکھے، جن پر جوہری ہتھیار نصب کیے جا سکیں۔

اخباری کانفرنس سے قبل ایک اعلان میں، اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ اس بات کا ’’ناقابل تردید ثبوت پیش کریں گی‘‘ کہ ایران نے اپنی بین الاقوامی ذمے داریاں پوری نہیں کیں اور اپنی سرگرمیوں پر پردہ ڈال رکھا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جوہری سمجھوتے پر اعتراض اٹھایا تھا، جو اُن کے پیش رو براک اوباما کے دور میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد یہ تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار تشکیل دینے سے روکا جا سکے۔

دونوں انتظامیائیں ایران کے جوہری میزائل تجربات پر معترض رہی ہیں، جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ اُس نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا معاملہ جاری نہیں رکھا، جب کہ میزائل پر پیش رفت کرنا اُس کی دفاعی ضروریات کا حصہ ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کردہ ایک رپورٹ میں، سکریٹری جنرل انتونیو گئیترس نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ جوہری سمجھوتے پر وہ اپنا عزم برقرار رکھے، اور یہ کہ اُسے ’’مزید کوئی قدم اٹھانے سے پہلے، خطے کے لیے وسیع تر مضمرات کو مدِ نظر رکھنا ہوگا‘‘۔

اُنھوں نے ایران سے بھی مطالبہ کیا کہ ’’معاہدے میں شامل دیگر شرکا کی جانب سے کی جانے والی تشویش کو بھی احتیاط سے زیر نظر رکھنا چاہیئے‘‘۔

امریکہ اور سعودی عرب یمن میں حوثیوں کو مسلح کرنے کا الزام ایران پر لگاتے ہیں، جس میں جولائی اور نومبر میں سعودی عرب پر فائر کیے گئے میزائل کا معاملہ شامل ہیں۔

ایران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ حوثیوں کو ہتھیار فراہم کرتا ہے۔

گئیترس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ اِن الزامات کی تفتیش کر رہا ہے، جب کہ میزائل کے ملبے کے تجزئے سے پتا چلتا ہے کہ ’’یہ یکساں ساخت کے ہیں‘‘۔

اقوام متحدہ کے اہل کار ابھی اِن اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG