رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل سے تعلقات کا 'ازسر نو جائزہ' لینا ہو گا: اوباما


اسرائیلی وزیراعظم اپنے حالیہ موقف سے کچھ پیچھے ہٹتے دکھائی دیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پائیدار، پرامن دو ریاستی حل چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے حالات کا تبدیل ہونا ضروری ہے۔

صدر براک اوباما نے اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بتایا ہے کہ وہ ان (نیتن یاہو) کی طرف سے دو ریاستی حل کو مسترد کرنے کے بیان کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کا "ازسر نو جائزہ" لیں گے۔

یہ پیغام انھوں نے جمعرات کو نتین یاہو سے فون پر گفتگو میں دیا جو انھوں نے اسرائیلی انتخابات میں ان کی کامیابی پر مبارکباد دینے کے لیے کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ "صدر نے وزیراعظم (نیتن یاہو) کو بتایا کہ ہمیں ان کے (اسرائیل اور فلسطین کے) دو ریاستی حل سے متعلق نئے موقف کے تناظر میں اپنے تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔"

گزشتہ منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی میڈیا کو بتایا تھا کہ وہ الگ فلسطینی ریاست کی "ہرگز حمایت نہیں" کریں گے۔

اسرائیل اور فلسطین کے دیرینہ تنازع کے حل کے لیے دو الگ ریاستوں کے قیام کا معاملہ ایک عرصے سے زیر بحث رہا ہے۔

جمعرات کو نیتن یاہو اس وقت اپنے تازہ موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے دکھائی دیے جب انھوں نے متعدد امریکی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وہ "فلسطینی ریاست کو اسلحے سے پاک" کرنے پر معترض نہیں ہیں لیکن ان کے بقول یہ مقصد سردست حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

"میں ایک ریاستی حل نہیں چاہتا، میں پائیدار، پرامن دو ریاستی حل چاہتا ہوں، لیکن اس کے لیے حالات کا تبدیل ہونا ضروری ہے۔"

اسرائیلی رہنما نے امریکی نیوز اسٹیشن 'ایم ایس این بی سی' کو بتایا کہ "اگر آپ امن چاہتے ہیں تو آپ کو فلسطینی قیادت کو منانا ہو گا کہ وہ حماس کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کرے اور اسرائیل کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات میں شریک ہو۔"

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر اوباما نے نتین یاہو سے فون پر گفتگو میں "امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ قریبی عسکری، انٹیلی جنس اور سلامتی کے معاملات میں تعاون" کی اہمیت پر زور دیا۔

XS
SM
MD
LG