رسائی کے لنکس

امیر ترین امریکی اربوں ڈالر ٹیکس بچاتے ہیں، امریکی محکمہ خزانہ کی رپورٹ


امریکی محکمہ خزانہ کی عمارت

ایک نئی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے امیر ترین لوگوں کی جانب اربوں ڈالر کے ٹیکس واجب الادا ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے بدھ کے روز ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ چوٹی کے ایک فیصد ٹیکس دہندگان نے 163 ارب ڈالر ادا نہیں کئے؛ 5% نے 307 ارب ڈالر ٹیکس ادا نہیں کیا؛ جبکہ مجموعی طور پر 600 ارب ڈالر کے ٹیکس ادا نہیں کئے گئے۔

محکمہ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق یہ رقم ان 90% امریکیوں کی ٹیکس ادائیگیوں کے برابر ہے جو کم آمدنی کے باوجود ٹیکس ادا کرتے ہیں اور یہ رقم ملک کی مجموعی آمدنی کا 3% بنتی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی رپورٹ میں بنیادی طور پر کہا گیا ہے کہ چونکہ دولت مند امریکیوں کے پاس وسائل ہیں اس لئے وہ اکاؤنٹنٹ اور ٹیکسوں کے بارے میں معاونین کو معاوضہ ادا کرکے ان کی مدد سے ٹیکس کا پیسہ بچا لیتے ہیں۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دولت مند امریکیوں کے ذرائع آمدنی بھی اتنے واضح نہیں ہوتے اور وہ شراکت داری یا حقِ ملکیت یا آمدنی پر چارج دکھا کر ٹیکسوں سے بچ جاتے ہیں۔

دوسری جانب تنخواہ دار امریکی ہیں جن کا انکم ٹیکس ان کی تنخواہوں سے خو بخود کٹ جاتا ہے۔

حکام دولت مند امریکیوں کی ٹیکس سے بچنے کی کوششوں سے کافی عرصے سے آگاہ ہیں مگر اس مسئلے کو درست کرنے کی قانونی کوششیں اکثر ناکام رہی ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے معیشت کو بہتر بنانے اور ملک میں معاشرتی تحفظ کی توسیع کے اپنے منصوبوں میں ایک حصہ ایسے کاروباری اداروں اور شخصیات پر ٹیکس میں اضافے کا رکھا ہے جن کی سالانہ آمدنی چار لاکھ ڈالر ہے۔ اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹیکس وصولی کے محکمے، انٹرنل ریونیو سروس (آئی آر ایس) میں عملے کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔

مگر بعض اراکینِ کانگریس نے خاص طور پر ریپبلکن قانون سازوں نے آئی آر ایس میں عملے کی تعداد بڑھانے کی راہ روک رکھی ہے۔

کانگرس میں صدر بائیڈن کے معاشرتی تحفظ یا سوشل سیفٹی نیٹ کے 35 کھرب ڈالر کے منصوبے پر بحث جاری ہے، جبکہ زیریں ڈھانچے پر 10کھرب ڈالر کے اضافی اخراجات کا بل بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ مگر ان سب منصوبوں کا مستقبل کیا ہو گا ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

XS
SM
MD
LG