رسائی کے لنکس

پاکستانی تنظیم ممنوعہ؛ اور تین افراد ’’دہشت گردوں کے سہولت کار‘‘ قرار


امریکی محکمہٴ مالیات کی عمارت

جمعرات کو جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ ’’تین افراد اور تنظیمیں، جنھیں جمعرات کو ممنوعہ قرار دیا گیا، اُن کے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ رابطے ہیں؛ جو امریکہ اور پاکستان دونوں کی سکیورٹی کے لیے براہِ راست خطرے کا باعث ہیں‘‘

امریکی محکمہٴ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات، ’اے ایف اے سی‘ نے جماعت الدعویٰ القرآن و سنہ (جے ڈی کیو)، طالبان، القاعدہ، لشکرِ طیبہ؛ عراق اور شام کی داعش؛ اور داعش صوبہٴ خوراسان کی قیادت کے خلاف اقدام کا اعلان کیا ہے؛ جن میں سے تین شدت پسند افراد کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے، جن میں سے کچھ دہشت گرد گروپ ایسے بتائے جاتے ہیں، جو پاکستان سے کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

جمعرات کے روز جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد اور ممنوعہ قرار دیے جانے والی تنظیموں میں حیات اللہ غلام محمد (حاجی حیات اللہ)، علی محمد ابو تراب (ابو تراب)، عنایت الرحمٰن، اور عنایت الرحمٰن کے زیر سرپرستی چلائے جانے والا خود ساختہ خیراتی ادارہ؛ اور فلاحی اور ترقیاتی تنظیم کے نام سے سرگرم، ’جماعت الدعویٰ برائے قرآن و سنہ (ڈبلیو ڈی او)‘ شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ایک حالیہ انتظامی حکم نامے کے تحت کیا گیا ہے، جس میں دہشت گردوں اور کو دہشت گردی کی سرگرمیوں کی سرپرستی کرنے والوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔

اس اقدام کے تحت، اِن افراد کی امریکہ میں تمام املاک اور مفادات کو فوری طور پر منجمد کر دیا گیا ہے، اور امریکیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اُن سے کسی قسم کی مالی لین دین میں ملوث نہ ہوں۔

ادارے کے سربراہ، جان اسمتھ کے بقول، ’’اِن تعزیرات کا مقصد پاکستان میں قائم دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور دہشت گردوں کی مالی اعانت بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو طالبان، القاعدہ، داعش اور لشکرِ طیبہ کو مدد فراہم کرتے ہیں؛ جہاں سے خودکش بم حملہ آور بھرتی کیے جاتے ہیں؛ اور دیگر شدت پسند سرکش کارروائیوں کو فروغ ملتا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’امریکہ نے پاکستان اور ملحقہ خطے میں سرگرم شدت پسندوں کے خلاف اقدام جاری رکھا ہوا ہے؛ جن میں خیراتی ادارے بھی شامل ہیں؛ جب کہ دیگر محاذ اور گروہ بھی شامل ہیں جو غیر قانونی اور دہشت گرد سرگرمیوں کے فروغ میں معاونت کرتے ہیں‘‘۔

جان اسمتھ نے بتایا کہ ’’تین افراد اور تنظیمیں، جنھیں جمعرات کو ممنوع قرار دیا گیا، اُن کے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ رابطے ہیں؛ جو امریکہ اور پاکستان دونوں کی سکیورٹی کے لیے براہِ راست خطرے کا باعث ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ افراد انتہاپسند تنظیموں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ إن میں وہ بھی شامل ہیں جو نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے مخالف ہیں، وہ خطے میں گہرے پیر جمانے کے متمنی خیال کیے جاتے ہیں‘‘۔

حیایت اللہ غلام محمد

’اے ایف اے سی‘ نے حیایت اللہ غلام محمد کو دہشت گرد قرار دیا ہے، جو ’جے ڈی کیو‘ اور ’لشکر طیبہ‘ کے سرپرست گردانے جاتے ہیں، جو طالبان، القاعدہ، داعش اور داعش خوراسان کو مادی اور مالی اعانت فراہم کرتے ہیں۔

حاجی حیایت اللہ ’جے ڈی کیو‘ کے ایک سینئر راہنما ہیں۔ سنہ 2015 میں، حاجی حیات اللہ داعش خوراسان کو مدد فراہم کرتے تھے؛ اور 2016ء میں اُنھوں نے افغانستان میں داعش خوراسان کو ہتھیار، اور مالی حمایت فراہم کی۔ سنہ 2016کے اوائل میں، حاجی حیات اللہ پاکستان اور افغانستان کے صوبہٴ کنڑ میں قائم مدرسوں سے داعش خوراسان کے لیے بھرتی کا کام جاری رکھا۔ حاجی حیات اللہ نے ایک مدرسے کو داعش خوراسان کے لیے بھرتی کے لیے استعمال کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حاجی حیات اللہ سنہ 2014سے داعش کو حمایت فراہم کرتا رہا ہے؛ جہاں سے اُنھوں نے داعش کے لیے بھرتی اور خودکش بم حملہ آوروں کو رقوم فراہم کیں؛ اور شام اور عراق کی جانب سفر میں معاونت فراہم کی۔ سنہ 2005 میں حاجی حیات اللہ افغانستان میں داعش کے نیٹ ورک کو قائم کرنے میں مدد دیتا رہا؛ جب کہ 2016ء میں وہ عراق میں داعش کے لیے افرادی قوت فراہم کرتا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حیات اللہ طالبان کو حمایت فراہم کرتا رہا، جو لشکر طیبہ کی متعدد قیادت کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے حاجی حیات اللہ طالبان کمانڈروں کو ہتھیار بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ جنوری، 2010میں وہ ’جے ڈی کیو‘ راہنماؤں کے ایک گروپ کا حصہ بنا، جنھوں نے طالبان کے ساتھ وفاداری کا حلف لیا؛ اور طالبان قیادت کے تحت افغانستان میں بغاوت میں حصہ لینے کا عہد کیا۔

سنہ 2013میں حاجی حیات اللہ لشکر طیبہ کے کارندوں کی تربیت کے سلسلے میں افغانستان میں لشکر طیبہ کا ایک کمانڈر رہا۔

حیات اللہ نے کم از کم 2011میں القاعدہ کے شدت پسندوں، ارکان اور سینئر قائدین کو مادی اور مالی مدد بھی فراہم کی، سنہ 2014 میں، خیراتی منصوبوں کی آڑ میں القاعدہ کے ارکان کو رقوم فراہم کیں۔ سنہ 2011کے وسط میں، حیات اللہ نے القاعدہ سے وابستہ شدت پسند، نائف سلام محمد عجیم الحبیبی کو مدد فراہم کی، جسے ’او ایف اے سی‘ 10 فروری 2016ء میں القاعدہ کا ممنوعہ لیڈر قرار دے گیا ہے۔

علی محمد ابو تراب

ادارے نے علی محمد ابو تراب کو دہشت گرد قرار دیا تھا، جن پر ’جے ڈی کیو‘ کے فضیل الشیخ ابو محمد امین الپشاوری، جو مادی اور مالی اعانت فراہم کرنے کا الزام تھا؛ جنھیں شیخ امین اللہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ شیخ امین اللہ کو 2009ء میں امریکہ اور اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا تھا، جن پر القاعدہ اور لشکر طیبہ کو مادی مدد فراہم کرنے کا الزام تھا۔

سال 2016 تک، ابو تراب ’جے ڈی کیو‘ کے لیے سہولت کار کا کام انجام دیا کرتا تھا۔

وہ ’جے ڈی کیو‘ کی پاکستان میں قائم قیادت کو ہزاروں ڈالر پہنچاتا تھا، جس میں عنایت الرحمٰن بھی شامل تھا۔ سنہ 2016 کے دوران بھی ابو تراب خلیج سے پاکستان لائے جانے والے ہزاروں ڈالر کی منتقلی میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا۔

سنہ 2015 میں، ابو تراب ’جے ڈی کیو‘ کی قیادت کو حمایت فراہم کرتا رہا، جس دوران اُن کا کام حاجی حیات اللہ کی مدد سے ’جے ڈی کیو‘ کے لیے خلیج سے فنڈ اکٹھے کرنے کی کوششیں کرنا تھا۔

ابو تراب خلیج میں روزانہ کی بنیاد پر لشکر طیبہ کی فنڈریزنگ بھی کرتا رہا، جس دوران وہ لشکر طیبہ کا عطیہ دہندگان سے تعارف کراتا رہا۔

اس چندے کا استعمال کرتے ہوئے، طالبان نے افغانستان میں لڑائی جاری رکھی اور لڑاکوں کو بھرتی کیا اور اُنھیں تربیت فراہم کی۔

عنایت الرحمٰن

ادارے نے ’جے ڈی کیو‘ اور طالبان کے لیے کام کرنے، اور لشکر طیبہ اور طالبان کو مادی اور مالی مدد فراہم کرنے پر عنایت الرحمٰن کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔

عنایت الرحمٰن ایک طویل عرصے سے ’جے ڈی کیو‘ کا لیڈر رہا ہے۔ وہ 2014ء کے اواخر سے حاجی حیات اللہ سے براہ راست تعلق میں تھا۔ سنہ 2015 کے وسط سے عنایت الرحمٰن ’جے ڈی کیو‘ کے روزمرہ کی سرگرمیوں کا انتظام سنبھالتا رہا۔

سنہ 2015 سے، عنایت الرحمٰن افغانستان کے شمال مشرق میں شدت پسندوں کا اثر و رسوخ بڑھانے میں دلچسپی رکھتا تھا۔

’ڈبلیو ڈی او‘

’او ایف اے سی‘ نے جماعت الدعویٰ برائے قرآن و سنہ (ڈبلیو ڈی او) کی تنظیم برائے رفاحی کام اور ترقیات کو ممنوعہ تنظیم قرار دیا ہے، جسے عنایت الرحمٰن چلاتا رہا۔

سنہ 2015 سے، عنایت الرحمٰن ’ڈبلیو ڈی او‘ کے ڈائریکٹر، چیرمین، اور صدر رہے ہیں؛ جب کہ وہ سنہ 2004 سے اِس سے وابستہ رہے۔

’او ایف اے سی‘ نے آج عنایت الرحمٰن کو دہشت گرد قرار دیا ہے، جو ’جے ڈی کیو‘ اور طالبان کے لیے کام کرتا رہا؛ یا پھر لشکر طیبہ اور طالبان کو مادی یا مالی اعانت فراہم کرتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG