رسائی کے لنکس

logo-print

بلیک واٹر کے گارڈز پر عراقی شہریوں کے قتل کا مقدمہ شروع


مقدمے کا سامنا کرنے والے ایک گارڈ پر قتل کا الزام ہے اور قصور ثابت ہونے کی صورت میں اسے عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے

عراق میں شہریوں کو قتل کرنے کے الزام میں بلیک واٹر نامی سکیورٹی فرم کے چار سابق محافظوں پر تقریباً سات سال سے تعطل اور قانونی الجھنوں کے شکار مقدمے کی کارروائی بدھ کو واشنگٹن میں شروع ہو رہی ہے۔

مقدمے کی کارروائی جیوری کے انتخاب سے شروع ہوگی۔

ان چاروں پر الزام ہے کہ 2007ء میں انھوں نے بغداد میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے بعد جائے وقوع سے بھاگنے والے عراقی شہریوں پر فائرنگ کی۔ یہ دھماکے میں بظاہر امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

امریکہ میں سرکاری استغاثہ کا اصرار ہے کہ اس موقع پر مہلک فورس کا استعمال غیرضروری تھا۔ ان کا ارادہ ہے کہ گواہی کے لیے عراقی شہریوں اور بلیک واٹر کے اس سابق گارڈ کو بلایا جائے جو ایسے ہی الزامات میں سزا پا چکے ہیں۔

مقدمے کا سامنا کرنے والے ایک گارڈ پر قتل کا الزام ہے اور قصور ثابت ہونے کی صورت میں اسے عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ دیگر تین محافظوں پر لوگوں کو ذبح کرنے کے الزامات ہیں اور انھیں 30 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ایک ڈسٹرکٹ جج نے ان افراد کے ہلاک مقدمہ 2010 میں خارج کر دیا تھا لیکن بعد میں ایک اپیل کورٹ نے اسے دوبارہ شروع کیا۔
XS
SM
MD
LG