رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین میں امریکی فوجیوں کی موجودگی سے صورتحال خراب ہو سکتی ہے: روس


یو ایس ایئربورن کا ایک بریگیڈ رواں ہفتے یوکرین پہنچا تھا جو مقامی فوجیوں کو مختلف مراحل میں تربیت فراہم کرے گا۔

روس نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی فوجی اہلکاروں کی یوکرین میں موجودگی مشرقی خطے میں صورتحال کو "غیر مستحکم" کر سکتی ہے۔

رواں ہفتے ہی امریکی چھاتہ بردار یوکرین کے فوجیوں کو تربیت دینے کے لیے یہاں پہنچے تھے۔

روسی صدر ولادیمر پوٹن کے ایک ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ یوکرین اور روس کے علاوہ "تیسرے ملکوں" کے تربیت کاروں کی وجہ سے مشرقی یوکرین میں صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں اور یوکرین کی فورسز میں جھڑپیں ہوتی آ رہی ہیں۔

یو ایس ایئربورن کا ایک بریگیڈ رواں ہفتے یوکرین پہنچا تھا جو مقامی فوجیوں کو مختلف مراحل میں تربیت فراہم کرے گا۔

رواں ہفتے ہی روس کے صدر پوٹن نے امریکہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بین الاقوامی تعلقات پر غالب آنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ان کے بقول روس اب بھی "تعاون کے لیے تیار ہے۔"

امریکہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "بڑی عالمی طاقتیں جو اپنی انفرادیت کا دعویٰ کرتی ہیں اور صرف خود کو ہی دنیا میں طاقت کا منبع تصور کرتی ہیں، انھیں غلام چاہیئں نا کہ اتحادی۔"

ان کا کہنا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ماسکو نے ترقی کا اپنا نمونہ بہت سے مشرقی یورپی ملکوں میں طاقت کے ذریعے مسلط کرنے کی کوشش کی اور " اس میں کچھ بھی اچھا نہیں تھا۔" ان کے بقول اب امریکہ "بالکل اسی انداز میں برتاؤ کر رہا ہے اور اپنا ماڈل پوری دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ بھی ناکام ہوگا"۔

روسی صدر نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ امریکہ نے بعض یورپی رہنماؤں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ نو مئی کو ماسکو میں تقریبات میں شرکت نہ کریں جو کہ یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے 70 سال پورے ہونے پر منعقد کی جارہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG