رسائی کے لنکس

logo-print

بم دھماکے کے مشتبہ ملزم کے علاج پر ٹرمپ کی برہمی


زخمی ہونے والے راحمی کو پولیس نے گرفتار کر لیا

امریکی آئین کسی بھی مشتبہ شخص کو قانونی معاونت کی ضمانت دیتا ہے۔

ریپبلکن جماعت کے صدارتی اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں بم حملے میں ملوث ہونے پر گرفتار کیے گئے مشتبہ حملہ آور کو طبی اور قانونی امداد کی فراہمی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

ہفتہ کو نیویارک میں ہونے والے بم دھماکے میں 29 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

اس حملے میں مشتبہ ملزم افغان نژاد امریکی شہری احمد خان راحمی کو فائرنگ کے بعد اُس وقت زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا جب وہ پولیس سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔

فلوریڈا میں اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’اب ہم اُسے (احمد خان راحمی کو) اسپتال کی سہولت دیں گے اور دنیا کے بہترین ڈاکٹر اُس کا علاج کریں گے۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس سے بڑھ کر بہترین وکیل اُس کا دفاع کریں گے۔ ’’اُس کا مقدمہ عدالتوں میں مختلف مراحل میں کئی سال تک چلے گا اور پھر لوگ بھول جائیں گے اور اُس کو وہ سزا نہیں ملے گی جیسی ہونی چاہیئے۔‘‘

امریکی آئین کسی بھی مشتبہ شخص کو قانونی معاونت کی ضمانت دیتا ہے۔

نیویارک میں مین ہیٹن کے علاقے چیلسی میں جہاں پریشر کُکر بم سے دھماکا کیا گیا وہ ایک مصروف علاقہ ہے۔ اس دھماکے کے قریب ہی ایک مقام سے ایک اور پریشر کُکر بم ملا، جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔

چیلسی میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والے 29 افراد میں کوئی بھی شدید زخمی نہیں تھا اور اُن تمام افراد کو اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

چیلسی میں بم دھماکے سے قبل نیوجرسی میں بھی ایک دھماکا ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG