رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کے اہم رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کی کوشش کر رہے ہیں: امریکی حکام


امریکہ نے ابو عمر الشیشانی کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کر رکھی ہوئی ہے اور حکام کے بقول وہ داعش کے مالی وسائل کے شعبے سے "قریبی طور پر منسلک" رہا ہے۔

امریکہ گزشتہ ہفتے شام میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں شدت پسند گروپ داعش کے ایک اہم رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان پیٹر کک کا کہنا ہے کہ اتحادیوں نے جمعہ کو الشدادی نامی علاقے کے قریب فضائی کارروائی کی تھی جس کا نشانہ ترخان بشیریشویلی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ شدت پسند رہنما ابو عمر الشیشانی یا "عمر دی چیچن" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ترجمان کک کا کہنا تھا کہ عراق و شام کے سرحدی علاقے میں داعش کو شکست دینے کے لیے اتحادیوں کی مدد سے مقامی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں کو ہونے والی پسپائی کے بعد بشیریشولی کو گروپ نے اس علاقے میں بھیجا تھا اور حملے کے وقت وہ یہاں تھا۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ رہنما علاقے میں داعش کے جنگجوؤں کو منظم کرنے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

عہدیدار کے بقول فضائی کارروائی میں داعش کے کم از کم 12 شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکہ نے ابو عمر الشیشانی کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کر رکھی ہوئی ہے اور حکام کے بقول وہ داعش کے مالی وسائل کے شعبے سے "قریبی طور پر منسلک" رہا ہے۔

یہ اطلاعات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب گزشتہ ہفتے ہی حلب کے قریب ہوئے ایک فضائی حملے میں داعش کے کمانڈر امر العبسی کے مارے جانے کا بتایا گیا تھا۔

تاہم امریکی حکام نے وی او اے کو بتایا کہ وہ العبسی کی موت کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں اور اگر یہ کسی فضائی حملے میں مارا بھی گیا ہے تو یہ کارروائی امریکہ نے نہیں کی۔

XS
SM
MD
LG