رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے باغیوں کو تربیت کی فراہمی کے لیے امریکہ اور ترکی کا معاہدہ


امریکی فوج یہ کہہ چکی ہے کہ وہ داعش کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو تربیت کے لیے شام سے باہر مزید چار سو سے زائد امریکی فوجیوں بشمول اسپیشل آپریشنز فورسز بھیجے گی۔

امریکہ اور ترکی نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت شدت پسندوں کے خلاف برسر پیکار شام کے اعتدال پسند باغیوں کو تربیت اور آلات فراہم کیے جائیں گے۔

اس معاہدے پر جمعرات کو ترکی میں امریکہ کے سفیر جان باس اور ترک وزارت خارجہ کے معاون سیکرٹری فریدون سنرلی اغلو نے دستخط کیے اور ان عہدیداروں کے بقول یہ دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری کے سلسلے میں "ایک اہم قدم" ہے۔

امریکی فوج یہ کہہ چکی ہے کہ وہ داعش کے خلاف لڑائی کے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر باغیوں کو تربیت کے لیے شام سے باہر مزید چار سو سے زائد امریکی فوجیوں بشمول اسپیشل آپریشنز فورسز بھیجے گی۔

شام کے ساتھ ترکی کی تقریباً 750 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور اس ملک کا کہنا ہے کہ اسے امید ہے کہ یہ تربیت کمزور اور منقسم حزب مخالف کو صدر بشار الاسد کے خلاف لڑائی کے لیے بھی مضبوط کرے گی۔

شام میں ترکی کے اہم ترین اہداف میں صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔

تاہم اوباما انتظامیہ داعش کو خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتی ہے۔

بشار الاسد کے خلاف تقریباً پانچ سال قبل ایک پرامن تحریک شروع ہوئی تھی جو بعد میں پرتشدد صورت اختیار کر گئی اور ملک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس دوران تقریباً دو لاکھ افراد ہلاک جب کہ لاکھوں بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

شدت پسند گروپ داعش نے گزشتہ سال شام اور عراق کے مختلف حصوں پر قبضہ کر کے وہاں خلافت کا اعلان کیا اور اس نے اپنے دائرہ اثر کو مزید بڑھانے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔

امریکہ کی زیر قیادت اتحادی ممالک اس شدت پسند گروپ کے خلاف گزشتہ اگست سے فضائی کارروائیاں کرتے چلے آرہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG