رسائی کے لنکس

logo-print

شدت پسندی کے خلاف پاکستان کو ’مزید‘ کام کرنا ہوگا: ترجمان


وائٹ ہاؤس ترجمان نے اِس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ معاملہ اِس سال کے آخر میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے دورہٴامریکہ کے دوران ایجنڈے کا حصہ ہوگا؛ اور مزید کہا کہ رائس نے وزیر اعظم کو اکتوبر کے اواخر میں امریکہ کے دورے کی دعوت پہنچائی

امریکی قومی سلامتی کی مشیر، سوزن رائس نے پاکستانی اہل کاروں سے کہا ہے کہ انتہا پسند گروہوں سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پاکستان کو مزید کام کرنا ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جوش ارنیسٹ نے پیر کے روز کہا کہ رائس نےاتوار کے روز پاکستان کے مختصر دورے میں اسلام آباد کے رہنماؤں کو’متعدد مواقع پر‘ اِس بات کا اشارہ دیا کہ اِن گروہوں سے نبرد آزما ہونے کے حوالے سے، وہ مزید بہت کچھ کر سکتے ہیں، جو پاکستان و امریکہ دونوں کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔
ترجمان نے اِس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ معاملہ اِس سال کے آخر میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے دورہٴامریکہ کے دوران ایجنڈے کا حصہ ہوگا؛ اور مزید کہا کہ رائس نے وزیر اعظم کو اکتوبر کے اواخر میں امریکہ کے دورے کی دعوت پہنچائی۔

امریکی اہل کاروں نے اتوار کے روز اسلام آباد میں بتایا کہ رائس نے پاکستانی رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ افغانستان میں ہونے والے شدت پسند حملے امریکہ اور پاکستان کے مابین ’علاقائی اختلاف رائےکا ایک اہم نکتہ‘ بن گئے ہے۔


ایک اعلیٰ امریکی اہل کار کے مطابق، رائس نے پاکستانی رہنماؤں سے کہا ہےکہ پاکستان میں موجود فورسز کی جانب سے افغانستان پر حملے ’کسی طور پر قابل قبول نہیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ یہ حملے’حقانی نیٹ ورک کی کارستانی‘ ہیں، جو افغان طالبان کا ایک مہلک ترین شدت پسند گروہ ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اِس نیٹ ورک کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں چھپی ہوئی ہے۔

پاکستان کے امور خارجہ کے مشیر، سرتاج عزیز نے نکتہ چینی کا جواب دیتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں حقانی نیٹ ورک کے شدت پسند کمزور ہوچکے ہیں اور اب یہ گروپ زیادہ تر افغانستان سے ہی سرگرم عمل ہے۔

اُنھوں نے امریکہ کے اُس بیان سے اختلاف کیا جِس میں کہا گیا تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے افغانستان پر کیے جانے والےزیادہ تر حملوں کی منصوبہ بندی پاکستانی پناہ گاہوں سے کی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG