رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی لینڈ میں جمہوریت بحال کی جائے: امریکہ


امریکی وزیر ِخارجہ نے اپنے ایک بیان میں یہ بات واضح کی ہے کہ ’تھائی لینڈ میں مارشل لا کی کوئی ضرورت نہیں تھی‘

امریکہ نے تھائی لینڈ پر زور دیا ہے کہ وہ ان تمام سینئیر سیاسی رہنماؤں کو رہا کرے جنہیں ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد زیر ِحراست رکھا گیا ہے۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے تھائی لینڈ کی فوج پر زور دیا ہے کہ وہ جمہوری حکومت کو بحال کرے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا بھی احترام کرے۔

امریکی وزیر ِخارجہ جان کیری کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تھائی لینڈ میں مارشل لا کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

تھائی لینڈ میں امریکی سفیر، کرسٹی کینی نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں بتایا کہ فوج کی جانب سے تھائی لینڈ کی باگ ڈور سنبھالنے سے دونوں ملکوں کے باہمی سفارتی تعلقات متاثر ہوں گے، جِن کی تاریخ 1883 ءتک جاتی ہے۔

کرسٹی کینی کے الفاظ: ’تھائی لینڈ میں فوجی قیادت کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس حوالے سے امریکہ تھائی لینڈ میں امداد اور تعاون کی سرگرمیوں پر نظر ِثانی کرے گا‘۔

واضح رہے کہ تھائی لینڈ جنوبی مشرقی ایشیاء میں امریکہ کا اہم اتحادی ہے۔

امریکی سفیر نے کہا ہے کہ جمعرات کے روز تھائی لینڈ میں فوج کا اقتدار پر قبضہ جمانا ’ہمارے لیے قدرے حیران کن‘ تھا۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ، ’تھائی لینڈ کی صورتِ حال سے یہ اشارے مل رہے تھے کہ وہاں پر حالات درست نہیں اور کچھ غلط ہے۔ مگر جس وقت تھائی لینڈ میں فوج کی جانب سے مارشل لا نافذ کرنے کی خبر آئی، اس وقت تھائی لینڈ کی تمام اہم سیاسی جماعتیں اکٹھی بیٹھی ہوئی تھیں، اور بظاہر ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ اس ملاقات کے کوئی مثبت نتائج سامنے آئیں گے‘۔

تھائی لینڈ میں 2006ء میں بھی مارشل لا نافذ کیا گیا تھا جس کے بعد امریکہ نے تھائی لینڈ کے ساتھ فوجی تعاون اور تربیت کی سرگرمیوں کو معطل کر دیا تھا۔
XS
SM
MD
LG