رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی نائب صدر مائیک پینس اسرائیل پہنچ گئے


امریکی نائب صدر پینس تل ابیب کے بین گورئن ہوائے اڈے پر اپنی اہلیہ کیرن کے ساتھ

نائب صدر مائیک پینس آج اتوار کے روز سرکاری دورے پر اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ یہ صدر ٹرمپ کی طرف سے 6 دسمبر کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد اعلیٰ ترین سطح پر پہلا دورہ اسرائیل ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس اعلان کے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دے گا۔

فلسطینیوں نے نائب صدر پینس کے دورے کا بائیکاٹ کرنے کا علان کر رکھا ہے۔ یوں اُن کے دورے کے دوران اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے میں کسی پیش رفت کی کوئی توقع نہیں ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے صدر ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس فیصلے کے بعد امریکہ مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے مزاکرات میں غیر جانبدار سہولت کار کے کردار کا اہل نہیں رہا۔ نائب صدر پینس کی یروشلم آمد سے پہلے ہی فلسطینی صدر محمود عباس بیرون ملک دورے پر روانہ ہو گئے۔

نائب صدر پینس ایک امریکی فوجی جہاز سے اُردن سے اسرائیل کے ہوائی اڈے بین گورئن پر پہنچے تو اسرائیلی وزیر سیاحت یاریو لیون نے اُن کا استقبال کیا۔

آج اُن کی آمد سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیلی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس اسرائیل کے عظیم دوست ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ نائب صدر پینس کے ساتھ ایرانی جارحیت کو روکنے، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں امن و استحکام کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسے معاملات کے حل کیلئے امریکہ کے قائدانہ کردار کا کوئی نعمل بدل نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے سے امریکہ کی کئی دہائیوں سے جاری پالیسی کا خاتمہ ہو گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یروشلم کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مزاکرات کے ذریعے طے کیا جانا چاہئیے۔

اسرائیل پہنچنے سے قبل نائب صدر پینس نے مصر میں کہا تھا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں دو ریاستوں کے قیام کی حمایت کرے گا بشرطیکہ دونوں فریق اس پر راضی ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG