رسائی کے لنکس

 حافظ سعید کی رہائی 'پاک امریکہ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے'


حافظ سعید (فائل فوٹو)

امریکہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے حافظ سعید کو فوری طور پردوبارہ گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ نا چلایا تو اس کی اثرات اسلام آباد اور واشنگٹن کے باہمی تعلقات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

بھارت کے ممبئی شہر میں 2008ء میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام حافظ سعید پر عائد کرتا ہے، حافظ سعید اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے یہ انتباہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر حافظ سعید کی رہائی کے بعد سامنے آیا ہے۔ وہ رواں سال جنوری سے اپنے گھر پر نظر بند تھے اور رواں ہفتے انہو ں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ انہیں بغیر کسی ثبوت کے نظر بند رکھا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ہفتہ کو حافظ سعید کی رہائی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوشش سے متعلق ایک پریشان کن تاثر کا مظہر ہے اور یہ ان دعوؤں کی نفی ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کی اجازت نہیں دے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر پاکستان نے حافظ سعید کو حراست میں لے کر ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی نا کی تو اس سے دو طرفہ تعلقات اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص پر اثر پڑ سکتا ہے۔

سفارتی و دفاعی امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ جو امریکہ کے طرف سے دباؤ ہے میرے خیال میں پاکستان کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہ نہیں کہ یہ امریکہ کی طرف سے آرہا ہے بلکہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہونے کی حیثیت سے ان کے خلاف کوئی کیس بنتا ہے تو اس کو آگے لے جایا جائے نا کہ اسے ٹالا جائے اگر اس طرح کیا گیا تو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا اعتماد نہیں بڑھے گا۔"

اگرچہ پاکستان نے وائٹ ہاؤس کے تازہ بیان پر کوئی ردعمل تو ظاہر نہیں کیا تاہم دفتر خارجہ کے ترجمان نے حافظ سیعد کی رہائی پر ہونے والی تنقید پر جمعہ کو اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ "پاکستان کی عدالتیں قانون کی حکمرانی کو قائم کرنے اور تمام پاکستانی شہریوں کے قانون کے تقاظے پورے کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔"

لیکن طلعت مسعود کہتے ہیں کہ حکومت کو اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ "عدالت کے سامنے آپ جس قسم کا مواد رکھیں گے اسی سے کیس آگے بڑھ سکتا ہے۔ عدالت بغیر مواد کے کیس کو کیسے آگے بڑھا سکتی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ حکومت اس کیس کو بڑی سنجیدگی سے آگے لے کر چلے اور اگر وہ معصوم ہیں تو ان کو رہا کیا جا سکتا ہے۔"

حافظ سعید جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں اور ان دونوں تنظیموں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی اور امریکہ، دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں۔

امریکہ نے حافظ سعید کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر انعام مقرر کر رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG