رسائی کے لنکس

logo-print

تیز آندھی، چار افراد ہلاک؛ برف باری، شدید بارشوں کی پیش گوئی


واشنگٹن ڈی سی

شمال سے مشرق کی جانب چلنے والی تیز آندھی نے امریکی مشرقی ساحل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سمندری طوفان کی سی رفتار کی ہواؤں کے بعد اب برف باری اور شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے مئین سے نارتھ کرولینا تک کی شہری آبادی زیر اثر آئے گی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ورجینیا میں درخت گرنے کے واقعات میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ برس کا ایک بچہ بھی شامل ہے۔ دیگر ہلاکتیں ورجینیا، میری لینڈ اور رہوڈ آئی لینڈ میں واقع ہوئیں۔

ایئرلائنز نے 2800 سے زائد پروازیں منسوخ کردیں، جن میں زیادہ تر کا تعلق نیو یارک علاقے سے تھا، جب کہ وفاقی حکومت نے واشنگٹن ڈی سی میں سرکاری دفاتر بند رکھے۔

تیز آندھی، درخت اکھڑ کر گرنے اور کافی علاقے میں سیلابی صورت حال کے نتیجے میں، ’ایمٹریک‘ نے بوسٹن اور واشنگٹن ڈی سی کے درمیان ساری؛ جب کہ واشنگٹن سے جنوبی علاقے کی طرف جانے والی چند ریل گاڑیاں بند کر دی ہیں۔

مشرقی ساحل پر 80 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے تیز آندھی جاری رہی، جب کہ میساچیوسٹس کے علاقے، کیپ کوڈ میں طوفان کی رفتار 145 کلومیٹر فی گھنٹا تک تھی۔

موسمیات کے قومی ادارے نے انتباہ جاری کرتے ہوئے سفر کو خطرناک قرار دیا ہے، خاص طور پر ٹریکٹر ٹریلرز اور بسوں کے لیے۔

بوسٹن کی ساحلی سڑکوں پر سمندری پانی کا سیلاب آیا، جہاں 928 ء کے بعد اونچی لہروں یعنی 4.47 میٹر تک کی لہریں چلنے کا ریکارڈ قائم ہوا۔ شہر کے ساحلی مضافات سے مکینوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا گیا۔

طوفانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے میساچیوسٹس کے گورنر، چارلی بیکر نے نیشنل گارڈ سے مدد طلب کر لی ہے۔

طوفان کے نتیجے میں مئین سے نارتھ کرولینا اور مغرب کی جانب مشیگن تک گھروں اور کاروباری اداروں کو بجلی کی ترسیل بند رہی، جس سے 16 لاکھ لوگ متاثر ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG