رسائی کے لنکس

داعش کے خلاف ایک ہزار ’ریزرو‘ فوجی تعینات کرنے کی تجویز: رپورٹ


فائل فوٹو

عہدیداروں نے کہا کہ یہ تعیناتی کویت میں پہلے سے موجود امریکی فوجیوں سے مختلف ہو گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کویت میں تقریباً ایک ہزار امریکی فوجی بطور ریزرو فورس کے تعینات کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے جنہیں بوقت ضرورت عراق و شام میں داعش کے خلاف برسرپیکار امریکہ کے حمایت یافتہ جنجگوؤں کی مدد کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات امریکی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے روئیڑز کو بتائی ہے۔

اس تجویز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ اقدام سے وہاں موجود کمانڈروں کو جنگ کے میدان میں غیر متوقع چیلنجوں اور مواقع سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے ایک متبادل طریقہ کار میسر ہو سکتا ہے۔

قبل ازیں سابق صدر براک اوباما کے دور میں یہ معمول رہا ہے کہ کویت میں موجود ریزرو فوجیوں کو شام یا عراق میں تعینات کرنے یا نا کرنے کا حتمی فیصلہ مقامی کمانڈر پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ ایک (حکمت عملی کے لیے) ایک متبادل راستہ فراہم کرنا ہے۔"

عہدیداروں نے کہا کہ یہ تعیناتی کویت میں پہلے سے موجود فوجیوں سے مختلف ہو گی۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کیا اس تجویز کو وزیر دفاع جم میٹس کی حمایت حاصل ہے یا نہیں۔

پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس ان تجاویز کے بارے میں بات کرنے سے احتراز کیا جو ٹرمپ انتظامیہ کے زیر غور ہیں۔

کویت میں پہلے سے چھ ہزار امریکی فوجی زیادہ تر مشاورت فراہم کرنے کے لیے تعینات ہیں۔

شدت پسند گروپ داعش کو شکست دینا ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ترجحیات میں سے ایک ہے۔

امریکی عہدیداروں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس جائزے سے شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے جہاں امریکہ کی حمایت یافتہ عرب اور کرد فورسز رقہ کے شہر پر بڑے حملے سے پہلے اس کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو داعش کا گڑھ ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اس بات کا کم امکان ہے کہ امریکہ کی حکمت عملی میں کوئی بڑی تبدیلی کی جا سکتی ہے جو اب تک شام و عراق میں مقامی زمینی فورسز کو تربیت اور مشاورت فراہم کرنے تک محدود رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG