رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی فوجی جج کا وکی لیکز الزامات کوخارج کرنے سےانکار


امریکی حکام کا کہنا ہے کہ میننگ کا عمل امریکی قومی سلامتی کو داؤ پر لگانے اور فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے

ایک امریکی فوجی جج نےوکی لیکز ویب سائٹ کو حکومت کےرازافشا کرنے کےالزام میں گرفتار امریکی فوجی کےخلاف 22 الزامات میں سے کسی بھی ایک الزام کوخارج کرنے سے انکارکردیا ہے۔

میری لینڈ میں فورٹ میڈ ملٹری بیس پر جمعے کے روز ہونے والی ابتدائی سماعت کے دوران، کرنل ڈینس لِنڈ نے دفاعی وکلا کی جانب سے پرائیویٹ فرسٹ کلاس بریڈلے میننگ کےخلاف 10الزامات کو خارج کرنے کی استدعا مسترد کردی۔

جج نے مقدمےکا دفاع کرنے والوں کی طرف سے پیش کردہ دلائل کو مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ کلاسی فائیڈ انفارمیشن غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھنے اور ظاہر کرنے کےعمل کے ارتکاب کے بارے میں آئینی شقوں میں ابہام ہے۔ اُنھوں نے دو مزید الزامات کو خارج کرنے سے بھی انکار کیا جن میں کہا گیا تھا کہ محکمہ دفاع کے کمپیوٹر نظام تک رسائی کے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے میننگ نےایسا عمل کیا۔


لِنڈ نے کہا کہ میننگ کے خلاف 21ستمبر سے شروع ہونے والی کورٹ مارشل کی کارروائی نومبر یا جنوری تک مؤخر کی جا سکتی ہے۔

فوج کے انٹیلی جنس تجزیہ کار پر الزام ہے کہ اُس نےعراق اور افغانستان کی جنگوں سے متعلق ہزاروں کی تعداد میں سفارتی کیبلز اور فوجی دستاویزات کو لیک کیا۔ اُن کے خلاف سب سے زیادہ سنگین الزامات میں ’دشمن کی مدد کرنے‘ کا الزام شامل ہے۔ قصوروار ٹھہرائے جانے کی صورت میں اُنھیں عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ میننگ کا عمل امریکی قومی سلامتی کو داؤ پر لگانے اور فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ میننگ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ لوگوں کو امریکی فوجی آپریشنز کے بارے میں سچ جاننا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG