رسائی کے لنکس

logo-print

ڈو مور کے امریکی مطالبے کو دباؤ نہیں سمجھنا چاہیے: مبصر


اعلیٰ امریکی سفارتکار ایلس ویلز اور پاکستان سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ (فائل فوٹو)

امریکہ اور پاکستان کے مابین بعض امور پر اختلافات اور کسی قدر تناؤ کے باوجود دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ روابط جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے آ رہے ہیں اور غیر جانبدار حلقوں کے خیال میں خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ان کا باہمی تعاون اور ایک دوسرے پر اعتماد بہت ضروری ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بعد محکمہ دفاع کی طرف سے بھی ایسا بیان سامنے آیا ہے کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنا چاہتا ہے۔

پینٹاگان کی ترجمان ڈانا وائٹ نے ایک نیوز بریفنگ کے دوران پاکستان کی طرف سے انسداد دہشت گردی میں امریکہ کی معاونت سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ ان کا ملک سمجھتا ہے کہ پاکستان مزید اقدام بھی کر سکتا ہے اور ہم ان کی طرف دیکھیں گے کہ خطے میں مزید سلامتی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے مواقع ڈھونڈنے پر کام کریں گے۔

دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات میں تناؤ میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب رواں سال کے آغاز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر امریکہ کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس پر اسلام آباد کی طرف سے ناراضی کا اظہار تو کیا گیا لیکن حکومتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہت اہم ہیں اور دوطرفہ رابطوں کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کرنے پر کام کیا جاتا رہے گا۔

دیگر اعلیٰ سطحی رابطوں کے علاوہ اعلیٰ امریکی سفارتکار ایلس ویلز نے گزشتہ ماہ دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس میں بھی مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کی طرف سے 'ڈو مور' کا مطالبہ کسی طرح کا دباؤ ہے۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "ڈو مور کو منفی انداز میں نہیں لینا چاہیے، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان تھوڑا آگے بڑھے اور ہمارے ساتھ افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مزید تعاون کرے۔۔۔شاید پاکستان کے ارباب اختیار میں کسی حلقے کا یہ مخصوص ذہن ہو کہ ڈو مور ایک پریشر ہے ہماری کارکردگی کو اس سے نتھی کیا جا رہا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ نتھی کیا جا رہا ہے۔"

ڈاکٹر ہلالی کے خیال میں امریکہ شاید یہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی اپنی موثر حکمت عملی سے اس علاقے میں امن کے لیے بہتر کردار ادا کر سکتا ہے اور اس کی صلاحیتوں کو استعمال کیا جائے۔

پاکستان یہ کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام خود اس کے اپنے مفاد میں ہے اور وہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کی حمایت کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG