رسائی کے لنکس

اسرائیل مخالف تعصب کا الزام، امریکہ یونیسکو سے علیحدہ


پیرس
پیرس

محکمہٴ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ ’’یہ فیصلہ اتنا سہل نہیں تھا، اور اس سے یونیسکو کی بے تحاشہ واجب الادا رقوم پر امریکہ کی تشویش کا اظہار؛ تنظیم میں بنیادی إصلاحات کی ضرورت اور یونیسکو کی طرف سے جاری اسرائیل مخالف تعصب کی نشاندہی ہوتی ہے‘‘

اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، علمی و ثقافتی تنظیم (یونیسکو) پر ’’اسرائیل مخالف‘‘ رویے کا الزام لگاتے ہوئے، امریکہ نے تنظیم سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

ایک بیان میں امریکی محکمہٴ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ ’’یہ فیصلہ اتنا سہل نہیں تھا، اور اس سے یونیسکو کی بے تحاشہ واجب الادا رقوم پر امریکہ کی تشویش کا اظہار؛ تنظیم میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت اور یونیسکو کی طرف سے جاری اسرائیل مخالف تعصب کی نشاندہی ہوتی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’امریکہ نے ادارے کی سربراہ کو بتاہا ہے کہ بطور غیر رکن مبصر ملک کے، وہ یونیسکو سے رابطے میں رہے گا، تاکہ اس کے کام میں حصہ لیا جا سکے‘‘۔

محکمہٴ خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ 31 دسمبر سے یونیسکو سے علیحدہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے تعلیمی، علمی و ثقافتی تنظیم (یونیسکو) نے فیصلے پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔

یونیسکو کی سربراہ، ارینہ بوکووا نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ ’’میرا خیال ہے کہ اتنے سالوں کے دوران ہم ساتھی بنے رہے ہیں، خاص طور پر موجودہ وقت کے دوران، ہمارے بندھن مضبوط پارٹنرشپ کی نوعیت کے رہے ہیں، جو کہ میں سمجھتی ہوں کہ امریکہ کے خارجہ پالیسی کے مجموعی ایجنڈا کے مطابق ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے کہ اس ضمن میں آج مجھے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے ایک مراسلہ موصول ہوا ہے۔

بوکووا نے دھیان مبذول کرایا کہ بحیثیت ایک مبصر، امریکہ یونیسکو سے وابستہ رہے گا؛ اور یہ کہ ادارے کے ایک بانی رکن کی حیثیت سے امریکہ کو یہ موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ واپس آجائے۔

XS
SM
MD
LG