رسائی کے لنکس

logo-print

بچے کو جنم دیے بغیرزچگی کی عمرپار کرنے والی امریکی خواتین کی تعداد میں اضافہ


بچے کو جنم دیے بغیرزچگی کی عمرپار کرنے والی امریکی خواتین کی تعداد میں اضافہ

امریکہ میں ایسی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو بچے کو جنم دیے بغیر عمر کے اُس حصے میں پہنچ جاتی ہیں جہا ں اُن کی زچگی کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

یہ انکشاف ایک غیر جانبدار نجی ادارے، پیو ریسر چ سینٹر (Pew Research Center )، نے جمعے کو جاری ہونے والی اپنی ایک نئی رپورٹ میں کیا ہے جس کے مطابق 40 اور 44 سال کے درمیانی عمر کی ہر پانچ امریکی خواتین میں سے ایک نے بچے کو جنم نہیں دیا ہے۔

اِن میں زیادہ تعداد سفید فام اور تعلیم یافتہ امریکی خواتین کی ہے جبکہ امریکہ میں آباد سیاہ فام ،ہسپانوی اور ایشیائی عورتوں میں بھی یہ شرح بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مصنفین کے مطابق یہ رجحان امریکہ میں گزشتہ تین دہائیوں میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ 40 اور 44 سال کے درمیان عمر کی ایسی امریکی خواتین کی شرح میں 1976 ء سے 80 فیصد اضافہ ہوا ہے جنہوں نے بچے پیدا نہیں کیے۔

جائزہ رپورٹ کے مطابق بچے پیدا کرنے کے لیے خواتین پر سماجی دباؤ میں کمی، روزگار کے بہتر مواقع اور حمل سے بچاؤ کے بہتر طریقے اس رجحان کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اکثرتعلیم یافتہ امریکی خواتین میں بچوں کو جنم دینے کا رجحان بہت کم ہے لیکن دوسر ی طرف ایسی خواتین جنہوں نے اعلیٰ ترین تعلیی ڈگریاں حاصل کی ہیں اُن میں ماں بنے کے رجحانات زیادہ ہیں۔ تاہم اس کی وجوہات کو اُجاگر نہیں کیا گیا ہے۔

نجی ادارے کی 2008 ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بچے پیدا نہ کرنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی شرح 24 فیصد تھی جبکہ 1994 میں یہ شرح 31 فیصد تھی۔ نئی رپورٹ میں ایسی خواتین کا ذکر نہیں ہے جنہوں نے بچے گود لیے یا پھر جن کے پاس سوتیلے بچے ہیں۔

XS
SM
MD
LG