رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں نوجوانوں کی ہلاکتوں کا سب سے بڑا سبب: گاڑیاں اور ہتھیار


فائل فوٹو

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ بھر میں بچوں اور نوجوانوں میں ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ بیماریوں کی بجائے گاڑیوں کے حادثات اور مہلک ہتھیاروں کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

ایک نئے مطالعاتی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ نوجوان امریکیوں کی زیادہ تر ہلاکتیں موٹر گاڑیوں کے حادثوں اور آتشیں اسلحے کے باعث ہوتی ہیں۔ جب کہ بیماریوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ بھر میں ایک سال سے 19 کے عمر کے بچوں اور نوجوانوں میں ہلاکتوں کی شرح گر کر 2 فی صد ہو چکی ہے جس کی وجہ علاج معالجے کی بہتر سہولتیں اور وباؤں کے خلاف ویکسین کا استعمال ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب امریکہ میں بچوں اور نوجوانوں میں ہلاکتوں کا سب سے بڑا سبب گاڑیوں کے حادثات اور مہلک ہتھیاروں کا بڑھتا ہوا استعمال بن گیا ہے۔

2016 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں بچوں اور نوجوانوں میں ہتھیاروں کے استعمال سے ہلاکتوں کی تعداد مساوی آمدنی کے دیگر 12 ملکوں کے مقابلے میں 36.5 فی صد زیادہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر ایسے تیسرے گھر میں جہاں 18 سال سے کم عمر بچہ رہتا ہے ہتھیار موجود ہیں۔ جب کہ ان میں سے 43 فی صد گھروں میں ہتھیاروں کو تالے میں نہیں رکھا جاتا جس سے نوجوانوں اور بچوں کے ہلاک اور زخمی ہو جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ بھر میں ایک عشرے کے دوران ٹریفک حادثات میں 38 فی صد تک کمی آئی ہے جس کی وجہ سیٹ بیلٹ اور بچوں کی حفاظتی سیٹ کا استعمال، سڑکوں کا معیار بہتر کرنا، ٹریفک کے قوانین کی پابندی اور نشے کی حالت میں ڈرائیونگ پر کنٹرول ہے۔

لیکن دوسری جانب 2013 سے 2016 کے دوران جو ٹین ایجرز حادثوں کا نشانہ بنے اس کی وجہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون، بھنگ اور دوسری نشہ آور چیزوں کا استعمال تھا۔

آتشیں ہتھیاروں سے نوجوانوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں سے 59 فی صد قتل، 35 فی صد خودکشی اور 4 فی صد اتفاقیہ طور پر گولی لگنے سے ہلاک ہو ئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہلک ہتھیاروں سے غیر ارادی طور پر ہلاکتوں کی شرح امریکہ بھر میں 2 فی صد سے بھی کم ہے۔ لیکن ان میں سے 26 فی صد ہلاکتیں 12 سال سے کم بچوں کی ہوئیں۔

محققین نے اس رپورٹ کی تیاری میں بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کے مرکز کا ڈیٹا استعمال کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG