رسائی کے لنکس

logo-print

میسا چوسٹس کی سینٹ کی نشست پر ری پبلیکنز کی کامیابی



صدر اوباما کے اقتدار کا پہلا سال مکمل ہوگیا ہے اور سیاسی پنڈتوں کے مطابق ان کی صدارت کا ہنی مون بھی۔ ریاست میسا چوسٹس میں سینیٹ کی ایک نشست پر ریپبلکن سکاٹ براؤن کی کامیابی سےڈیمو کریٹک پارٹی کے ہاتھ سے سینٹ کی وہ اہم نشست نکل گئی ہے جو گزشتہ تین دہائیوں سے ڈیمو کریٹک سینیٹرایڈورڈ کینیڈی کے پاس تھی اور دوسری طرف سیاسی مخالفین اوباما انتطامیہ پر امریکہ کی قومی سلامتی پر ناکافی توجہ کے الزامات لگا رہے ہیں۔ تاہم سیکیورٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی اقدار کو سامنے رکھ کر صدر بش سے مختلف راستہ اپنایا ہے۔

صدر اوباما نے ایک موقع پر کہاتھا کہ جذبات، اور سیاست اکثر ہماری محنت کا راستہ دھندلا دیتے ہیں، مگر یہ واضح رہنا چاہئے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔

یہ جنگ جس کا ایک پہلو افغانستان اور عراق میں جاری لڑائی ہے تو دوسرا پہلو امریکہ کے اندر گزشتہ سال کے دوران سامنے آنے والے دہشت گردی کے ناکام منصوبے۔ اور امریکی صدر کا اپنی عوام سے وعدہ ہے کہ ان کی سلامتی کے لئے کوئی وسیلہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر اوباما دہشت گردی کی لڑائی کو روایتی جنگ قرار دینے سے گریز کرتے ہیں لیکن ان کے کئی اقدامات سے یہ تاثر نہیں ابھرتا۔

سپن انسی ٹیوٹ کے کلارک ارون کا کہنا ہے کہ لوگوں کو احساس ہی نہیں ہے کہ صدر اوباما نے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کی قیادت کے خلاف کوششیں انتہائی تیز کر دی ہیں، ان کے دور میں ڈرون حملوں میں اضافہ کیا گیا۔ کئی مہینوں کی سوچ بچار کے بعد انہوں نے افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد بھی بڑھا دی ہے۔

تو صدر اوباما ایسا کیا کر رہے ہیں جو ان کے پیشرو نے نہیں کیا تھا۔ واشنگٹن کے ایسپن انسٹی ٹیوٹ کے کلارک ارون کہتے ہیں کہ امریکہ اور دنیا بھر میں لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش۔

سابق نائب امریکی صدر ڈک چینی براک اوباما پر دہشت گرد تنظیموں سے سختی سے پیش نہ آنے کا الزام لگاتے ہیں۔ لیکن پرنسٹن یونیورسٹی کے جیکب شپیرو کا کہنا ہے کہ جنگ کا لفظ ہی دہشت گرد تنظیموں کی مدد کے لئے بہت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جنگ کا لفظ پروپیگنڈے کے نکتہ نظر سے ان کے لئے زیادہ مفید ہوتا ہے، وہ آبادی کو اپنے بہادر جنگجو دکھا کر بیوقوف بنانا چاہتے ہیں جو ان کے بقول غیر ملکی طاقت کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ ۔ جنگ کا لفظ وہ مقامی آبادی میں بے چینی اور خوف پیدا کرنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ نہیں ہے تو اوباما انتطامیہ کو اس کی حقیقت سب کے سامنے کھول کر رکھنی چاہئے، ، سی آئی اے کے سابق عہدیدار پال پلر کا کہنا ہے کہ امریکہ میں دہشت گردی سے تحفظ کے لئے عوام کیا قیمت دینے کو تیار ہیں، اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ قیمت پرائیویسی ہو سکتی ہے، ذاتی آزادی یا مسافروں کا آرام ہو سکتا ہے، مالی قیمت ہو سکتی ہے، اور بیرون ملک کھلے محاذجنگ پر بہایا گیا خون ہو سکتا ہے۔

امریکہ میں کچھ حلقوں کایہ بھی کہنا ہے کہ امریکی عوام مکمل طور پر جانتے ہی نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں داو پر کیا لگا ہوا ہے۔ امریکن سول لیبرٹی یونین کے مائیکل جرمن کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ ایسا معاملہ ہے جس پر اوباما انتظامیہ کو فوری توجہ دینی چاہئے، اور اس میں پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اوباما انتطامیہ کو اس بات کا سہرا ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے دہشت گردی خلاف لڑائی میں امریکی اقدار کا بھی خیال رکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری پالیسیز اور طریقہ کار امریکی اقدار کے آئینہ دار ہیں، ، ، یہی اقدار ہمیں مستحکم اور محفوظ رکھیں گی بہ نسبت ان کو نکال باہر پھینکنے کے جنہیں ہم دہشت گرد کہتے ہیں۔

ایسپن انسٹی ٹیوٹ کے کلارک ارون اس سے متفق ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی نئی ناکام کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ اوباما انتظامیہ کو دہشت گردی سے بچاو کے لئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کو اگلا حملہ ہونے سے پہلے اس کی خبر ہونی چاہئے۔

سیکیورٹی اہلکار یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اہداف اتنے زیادہ اور انہیں نشانہ بنانے کے اتنے طریقے ہو سکتے ہیں کہ سیکیورٹی سو فیصد نہیں بنائی جا سکتی مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اوباما انتظامیہ امریکی سلامتی کے اقدامات سے غافل ہو سکے۔

XS
SM
MD
LG