رسائی کے لنکس

logo-print

مسلح تنازعات میں بچوں کا استعمال قابل مذمت ہے: پاکستان


مسعود خان نے سلامتی کونسل میں ہونے والی ایک بحث کے دوران اس بات کا مطالبہ کیا کہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور مسلح لڑائیوں میں بچوں کو زبردستی بھرتی کرنے کو روکا جائے۔

پاکستان نے متحارب تنازعات میں بچوں کے استعمال اور ان کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے سلامتی کونسل میں ہونے والی ایک بحث کے دوران اس بات کا مطالبہ کیا کہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور مسلح لڑائیوں میں بچوں کو زبردستی بھرتی کرنے کو روکا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی مختلف گروپوں کے مابین ہونے والی لڑائیوں میں بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے، انھیں اغوا اور قتل کیا جا رہا ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

مسلح گروہوں کی لڑائی میں بچوں کے استعمال سے متعلق سلامتی کونسل میں سیکرٹری جنرل کی طرف سے ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے جس پر ان دنوں بحث جاری ہے۔

روں ہفتے ہی اس بارے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نمائندہ خصوصی لیلیٰ زورغوئی کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کسی حد تک کامیابی تو ہوئی ہے لیکن نئے بحران ان کامیابیوں کو تیزی سے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

انھوں نے خاص طور پر عراق و شام میں داعش اور نائیجیریا میں بوکو حرام کی شدت پسندوں کی طرف سے انسانی زندگیوں کو لاحق خطرات پر دکھ کا اظہار کیا۔

"عراق میں رواں سال اب تک سات سو بچوں کو ہلاک و زخمی کیا جاچکا ہے۔ داعش نے 13 سال کی عمر کے لڑکوں کو اسلحہ کی منتقلی، تنصیبات کی نگرانی اور شہریوں کو گرفتار کرنے پر لگایا۔ دیگر بچوں کو خودکش بم حملوں کے لیے استعمال کیا۔"

لیلیٰ کا کہنا تھا کہ گزستہ سال بوکو حرام نے اسکولوں پر حملے کیے جن میں کم ازکم ایک سو طلبا اور 70 اساتذہ کو ہلاک کیا۔ اس برس 200 سے زائد طالبات کو اغوا کیا جو ابھی تک بازیاب نہیں ہو سکی ہیں اور ان کے بقول یہ مسلح گروپ بچوں پر حملے انھیں اغوا کرنے کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

سلامتی کونسل میں "بچوں کو سلامتی اور امن سے متعلق اقدامات میں خصوصی توجہ دیے جانے" کا مطالبہ کرتے ہوئے نمائندہ خصوصی کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری ایسے اقدامات پر بہتر انداز میں عملدرآمد کرے جس سے بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG