رسائی کے لنکس

'کرونا وائرس بحران، پاک امریکہ تعلقات میں پیش رفت ضروری'


فائل

کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ پاک امریکہ تعلقات میں جو حالیہ بہتری آئی ہے اس کا جاری رہنا دونوں ممالک اور خطے میں امن کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

ماہرین نے ان خیالات کا اظہار واشنگٹن میں قائم 'یونائٹڈ سٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس' کے زیر اہتمام ایک آن لائن مباحثے کے دوران کیا۔

اس پروگرام میں شرکت کرنے والے ماہرین میں پاکستان کے نامور صحافی سرل المائدا، ڈان اخبار کے بزنس مدیر خرم حسین٫ اسٹیمسن سینٹر کے جنوبی ایشیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر ایلزبتھ تھریکلڈ اور اٹلانٹک کونسل کے نان ریذیڈنٹ فیلو عزیر یونس شامل تھے، جبکہ کہ یو ایس آئی پی کے ساؤتھ ایشیا کی ڈائریکٹر تمنا سلیقہ نے اس محفل مذاکرہ میں ماڈریٹر کے فرائض انجام دیے۔

گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے، الیزبتھ نے کہا کہ اس وقت جب کہ پاکستان اور امریکا دونوں ہی کرونا وائرس کی وبا کے چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں، ان کا تعاون بہت اہم ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان میں ٹیلی فون پر بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت دونوں ممالک میں قریبی تعاون کو ظاہر کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں جو بہتری آئی ہے اس کو مثبت سمت میں جاری رکھنے کے لئے تین عوامل اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

ایک یہ کہ افغان عمل کے حصول کے لئے پاکستان اپنا اہم کردار جاری رکھے اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے وہ طالبان پر دباؤ ڈالے۔

دوسرے، امریکہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی صورتحال حال خراب ہو، کیونکہ ایسی صورت میں توجہ ایک نئے بحران کی طرف منتقل ہوجائے گی۔

تیسرے، انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں پاکستان فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے طے کردہ اہداف کے حصول پر عمل جاری رکھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی طرف سے 1.4 ارب ڈالرز کی پاکستان کو جو امداد دی گئی ہے اس کو شفاف انداز میں خرچ کرنا ہوگا۔ دیکھنا ہوگا کہ یہ رقم بالواسطہ طور پر چین اور پاکستان کی شراکت سے ہونے والے پراجیکٹس پر خرچ تو نہیں ہو رہی۔

گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے، نامور پاکستانی صحافی اور 'یو ایس آئی پی' کے ایک ماہر، سرل المائدا نے کہا کہ کچھ ہفتے قبل کے سیاسی حالات کے مقابلے آج وزیراعظم عمران خان ایک بہتر پوزیشن میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مہینوں میں کرونا وائرس بحران کے مسئلے پر سیاست میں شور شرابہ ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے، سرل المائدا نے کہا کہ اگر مذہبی تنظیمیں پاکستانی ریاست پر دباؤ بڑھائیں گی کہ انہیں اس بحران میں کام کرنے کی اجازت دی جائے تو اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ کرونا وائرس کے بحران کی صورت میں پاکستان کو ایک موقع ملا ہے کہ وہ افغان عمل کے حصول کے سلسلے میں کوششیں تیز تر کر دے۔

داخلی طور پر بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں ماہرین نے کہا کہ اس وقت سول اور ملٹری اداروں میں تعاون بہتر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

عزیر یونس نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حکومت کو اس مخمصے کا بھی سامنا رہا کہ ایک طرف تو کرونا وائرس سے نمٹنا قومی صحت کے لئے بہت ضروری ہے، جبکہ دوسری طرف بہت سارے محنت کش پاکستانیوں کا خیال رکھنا بھی لازم ہے، کیونکہ ان کی آمدنی کا دارومدار روزانہ کی اجرت پر ہے اور لاک ڈاؤن کی صورت میں ان کی آمدنی منجمد ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا احساس پروگرام غریبوں کی امداد کے سلسلے میں اچھا کام سرانجام دے رہا ہے، لیکن اس میں شفافیت لازم ہے۔

ڈان اخبار کے بزنس مدیر، خرم حسین نے کہا کہ ایک طرف تو مذہبی حلقوں نے حکومت پر رمضان کے مہینے میں عبادات جاری رکھنے کا دباؤ ڈال رکھا ہے تو دوسری طرف بزنس کمیونٹی یہ چاہتی ہے کہ کاروبار دوبارہ سے جاری ہو سکے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی تعداد بڑھانا ہوگی، تاکہ پتا چل سکے کہ کون لوگ اس وبائی مرض سے دوچار ہیں؛ اور یوں ایک بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG