رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: محکمہ ِ ڈاک ہفتے کو ڈاک کی ترسیل جاری رکھے گا ۔۔۔


گذشتہ برس امریکی محکمہ ِ ڈاک کو مجموعی طور پر سولہ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ جس کے بعد محکمے نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہفتے میں چھ کی بجائے پانچ روز ڈاک کی ترسیل کرکے سالانہ دو ارب ڈالر کی بچت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی محکمہ ِ ڈاک مالی مشکلات کا شکار ہے اور کچھ عرصہ قبل ہی امریکی محکمہ ِ ڈاک نے اعلان کیا تھا کہ وہ رواں برس ہفتے کے روز ڈاک کی ترسیل کا نظام ختم کر دے گا۔ لیکن جمعرات کے روز امریکی ایوان ِ نمائندگان میں پاس ہونے والے ایک قانون کی رُو سے امریکی محکمہ ِ ڈاک ہفتے کے روز بھی ڈاک کی ترسیل کا پابند ہوگا۔

گذشتہ برس امریکی محکمہ ِ ڈاک کو مجموعی طور پر سولہ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ جس کے بعد محکمے نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہفتے میں چھ کی بجائے پانچ روز ڈاک کی ترسیل کرکے سالانہ دو ارب ڈالر کی بچت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی ایوان ِنمائندگان نے جمعرات کو اس قانون کی حتمی منظوری دی جس کی رُو سے محکمہ ِڈاک کا نظام ویسے ہی جاری رہے گا جیسا کہ پہلے تھا۔ اب یہ قانون صدر اوباما کے دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔ سینیٹ سے یہ قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔

امریکی محکمہ ِ ڈاک ایک ایسا امریکی ادارہ ہے جو اپنے اخراجات اپنے وسائل سے پورے کرتا ہے اور اس ضمن میں امریکی عوام کی جانب سے ٹیکس کی مد میں دئیے گئے پیسے استعمال نہیں کرتا۔ امریکی محکمہ ِ ڈاک کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس محکمہ ِ ڈاک کو اپنے نظام میں تبدیلی کی اجازت نہیں دیتی تو شاید 2017ء تک امریکی محکمہ ِ ڈاک کو حکومت کی جانب سے سینتالیس ارب ڈالر تک کے امدادی پیکج کی ضرورت پڑجائے۔
XS
SM
MD
LG