رسائی کے لنکس

logo-print

فلپائن: طوفان سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے کارروائیاں تیز


پینٹا گون کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے علاوہ چار دیگر چھوٹے بحری جہاز بھی خلیج لیاتی پہنچ رہے ہیں جو کہ روزانہ لاکھوں لیٹر پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکہ کا ایک بحری بیڑہ ’’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘‘ امدادی سامان لے کر بدھ کو فلپائن کے سمندری طوفان سے متاثرہ علاقے میں پہنچ رہا ہے۔

جہاز سے ہنگامی امداد کی اشیاء تکلوبان شہر میں پہنچائی جائیں گی۔ یہ شہر جمعہ کو آنے والے شدید ترین سمندری طوفان سے تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔

پینٹا گون کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار جہاز کے علاوہ چار دیگر چھوٹے بحری جہاز بھی خلیج لیاتی پہنچ رہے ہیں جو کہ روزانہ لاکھوں لیٹر پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان پر ہیلی کاپٹروں کے امدادی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے دیگر آلات اور سامان بھی موجود ہے۔

امریکی بریگیڈیئر جنرل پاؤل کینیڈی کی قیادت میں فوجیوں کا ایک دستہ پہلے ہی تکلوبان پہنچ چکا ہے۔ انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ سمندری طوفان کسی سونامی سے کم نہیں تھا۔

’’ اس طوفان میں 50 میل پر محیط بڑے بگولوں جتنی شدت تھی، ساحل پر تمام درخٹ اکھڑ چکے ہیں اور بہت سے علاقوں تک سڑک کے ذریعے رسائی بھی ممکن نہیں۔‘‘

فلپائن میں حکام نے طوفان سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کو پہلے لگائے گئے اندازوں سے کم ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ان کے بقول اب تک 1774 افراد ہلاک ہوئے۔

قبل ازیں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ سمندری طوفان ہائیان سے کم از کم دس ہزار افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔

ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں جب کہ کئی آبادیاں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے یا تو مٹ چکی ہیں یا پھر مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق متاثرین نے تکلوبان شہر کے قریب چاولوں کے ایک ڈپو پر ہلہ بول دیا اور اس دوران کم ازکم آٹھ افراد اس بھگدڑ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

الانگالانگ نامی قصبے میں پولیس اور فوج کے اہلکار اس ڈپو کی حفاظت پر معمور تھے لیکن انھیں پچھاڑتے ہوئے ہجوم وہاں سے لگ بھگ ایک لاکھ چاولوں کے تھیلے اٹھا کر بھاگ گیا۔
XS
SM
MD
LG