رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا وینزویلا سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلانے کا اعلان


(فائل فوٹو)

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے پیر کو رات دیر گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وینزویلا میں مہینوں سے جاری سیاسی بدامنی اور خراب صورت حال کے پیش نظر یہ حکومت نے وہاں سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

رواں سال جنوری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا کے حزبِ اختلاف کے رہنما گواڈو کو ملک کا عبوری صدر تسلیم کرنے کے بعد اپنے عہدے پر موجود صدر نکولس مادورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات توڑنے کا اعلان کیا تھا۔

نکولس مادورو کی حکومت نے امریکہ میں موجود اپنے سفارتی عملے کو 72 گھنٹوں میں واپس آنے کی ہدایت کی تھی۔

اس فیصلے کے پیش نظر امریکہ نے بھی وینزویلا میں اپنے سفارتی عملے میں کمی کر دی تھی۔

وینزویلا کا مسئلہ ملک میں صدارتی انتخابات کے بعد اس وقت شروع ہوا جب حزب اختلاف کے لیڈر گواڈو نے اپنی جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے عبوری صدر ہیں۔ امریکہ سمیت لگ بھگ 50 ملکوں نے انہیں عبوری صدر تسلیم کر لیا جب کہ روس اور کئی دوسرے ملکوں نے اس سیاسی بحران میں اپنے عہدے پر موجود صدر مادورو کا ساتھ دیا، جس سے ملک میں بدامنی اور انتشار کی کیفیت پیدا ہو گئی۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے سفارتی عملہ واپس بلانے کی مزید کوئی وضاحت نہیں دی اور نہ ہی ان کی واپسی کی تاریخ کا کوئی اعلان کیا ہے۔

صدر مادورو گزشتہ سال کے انتخابات میں ایک بار پھر ملک کے صدر منتخب ہو گئے تھے، جس کے بعد انہوں نے رواں ماہ ہی اپنے عہدے کی نئی مدت کا حلف اٹھایا ہے۔

وینزویلا کی معیشت کا کلی انحصار تیل کی برآمد پر ہے۔ لیکن عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرنے اور کرنسی کی قدر میں کمی سے وینزوہلا کی معیشت کو سخت دھچکا لگا ہے۔ حزبِ اختلاف اس کا ذمہ دار صدر ماودور کو قرار دیتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG