رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا: یونیورسٹیوں میں نئی بھرتیوں پر پابندی، وائس چانسلرز کی نظر ثانی کی اپیل


پروفیسر امتیاز کے بقول، اس وقت تمام یونیورسٹیوں میں داخلے جاری ہیں اور ان اداروں کو اساتذہ کی ضرورت ہے۔ (فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کی مختلف یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے وائس چانسلرز اور منتظمین نے صوبائی حکومت کے نئی بھرتیوں پر پابندی کے فیصلے کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے اس پر نظرِ ثانی کی اپیل کی ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے دو روز قبل ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے تحت صوبے کی تمام 30 یونیورسٹیوں اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہر قسم کی بھرتیوں اور تعیناتیوں پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

صوبائی حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے منتظمین پریشانی کا شکار ہیں۔

حکومت نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب تعلیمی اداروں میں ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ کلاسوں میں داخلے جاری ہیں۔

صوابی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر امتیاز حسین نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے اس فیصلے کے منفی اثرات ہوں گے۔ اسی لیے اُنہوں نے وائس چانسلرز کے اجلاس میں حکومت سے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل کی ہے۔

پروفیسر امتیاز کے بقول، اس وقت تمام یونیورسٹیوں میں داخلے جاری ہیں اور ان اداروں کو اساتذہ کی ضرورت ہے۔ لہذٰا، حکومت کے اس فیصلے سے داخلوں کا عمل اور طلبا بھی متاثر ہوں گے۔

پروفیسر امتیاز حسین کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی زیادہ تر یونیورسٹیاں نئی ہیں۔ ان اداروں کے منتظمین کی کوشش ہے کہ ان جامعات کو عالمی معیار کے تعلیمی اداروں سے ہم آہنگ کیا جائے جس کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسروں کی تعیناتی بہت ضروری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا کی تین یونیورسٹیوں کو مالی بحران کا سامنا تھا باقی تمام جامعات کی مالی صورتِ حال مستحکم ہے۔

صوبائی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بقول، حکومت ان تعلیمی اداروں کے وائس چانسلروں کو اعتماد میں لے کر ایسے اقدامات کرتی جس سے ان تین یونیورسٹیوں کا مالی مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔

پشاور کی زرعی یونیورسٹی ان تین جامعات میں شامل ہے جو مالی مسائل کا شکار ہیں۔ لیکن پشاور زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جہاں بخت نے تسلیم کیا کہ حکومت کے اس فیصلے کے تمام یونیورسٹیوں پر منفی اثرات ہوں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی بھرتیاں اور تعیناتیاں مستقل جاری رہنے والا عمل ہے۔

ڈاکٹر جہاں بخت نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے وائس چانسلروں اور منتظمین کو ہدایات دی ہیں کہ وہ صوبائی حکومت سے اجازت لے کر ضروری بھرتیاں کر سکتے ہیں۔

اس سے متعلق پروفیسر امتیاز کا کہنا تھا کہ یہ عمل کافی طویل ہوتا ہے کیوں کہ بعض مواقع پر وائس چانسلروں کو فوری فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

صوبائی وزیرِ اطلاعات شوکت علی یوسف زئی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بعض تعلیمی اداروں کو در پیش مالی بحران کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جس کا مقصد ان تعلیمی اداروں میں بھرتیوں اور تعیناتیوں کے عمل کے لیے کوئی مناسب منصوبہ بندی کرنا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ لیکن، جامعات میں مالی بحران کے باوجود اعلیٰ عہدوں پر بھرتیوں اور تعیناتیوں کا سلسلہ جاری تھا۔

واضح رہے کہ پشاور یونیورسٹی اور ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی کو بھی مالی بحران کا سامنا ہے اور ان جامعات کے وائس چانسلروں کی تعیناتی بالخصوص گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تعیناتی پر اعتراضات اُٹھائے جا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG