رسائی کے لنکس

logo-print

ویانا: حتمی تاریخ سر پہ، اہم معاملات اب بھی حل طلب


پیر کی صبح وزرا کے گروپ اور یورپی یونین کے عہدے داروں نے ویانا میں ایک گھنٹے تک بند کمرے کا اجلاس کیا جس کے دوران مذاکرات کار زیادہ تر خاموش رہے۔

چھ عالمی طاقتوں سے تعلق رکھنے والے گروپ اور ایران کے وزرائے خارجہ پیر کو ویانا میں مذاکرات کے تیکھے معاملات پر اٹکے ہوئے ہیں جب کہ ابھی کلیدی تنازعات حل طلب ہیں، ایسے میں جب تعزیرات میں نرمی کے عوض ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے پر ایک مربوط سمجھوتا طے ہونے کے لیے 7 جولائی کی خودساختہ حتمی تاریخ سر پہ ہے۔

سفارت کار، جن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف شامل ہیں، اس بات پر زور دیا ہے کہ کچھ پیش رفت کے باوجود دونوں فریق کے لیے لازم ہے کہ اہم معاملات پر درپیش اختلافات دور کرنے کے لیے گفت و شنید کریں۔

اتوار کے روز ’پی فائیو پلس ون‘ ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ویانا آمد پر، جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی شامل ہیں، کیری نے کہا کہ ’ہم ابھی وہاں نہیں پہنچے، میں یہ بات واضح کردوں‘۔

پیر کی صبح، وزراٴ کے گروپ اور یورپی یونین کے عہدے داروں نے پُرآسائش اور تاریخی ’کوبرگ پیلیس‘ میں ایک گھنٹے تک بند کمرے کا اجلاس کیا، جس دوران مذاکرات کار زیادہ تر خاموش رہے، ایسے میں جب وزارتی سطح کی سخت نوعیت کی بات چیت شروع ہوئی۔

آج دن بھر، ظریف مذاکرات میں شریک چھ ملکوں کے ارکان سے انفرادی طور پر ملاقات کرنے والے ہیں۔

کیری اور ظریف اتوار کو کئی بار ملے اور بات چیت کی۔ بتایا گیا تھا کہ تعزیرات اٹھائے جانے اور اقوام متحدہ کی جانب سے جوہری میدان میں ایران کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے متعلق رپورٹ دینے کےمعاملے پر پیش رفت ہوئی ہے، جس کے باعث مذاکرات کی رفتار مین تیزی آئی ہے۔

ذرائع نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ تعزیرات کے تنازع پر ابتدائی سمجھوتا طے پاگیا ہے، لیکن متنبہ کیا کہ اب بھی اس معاملے پر وزراٴ کی منظوری باقی ہے۔

وزیر خارجہ کیری نے کہا کہ مذاکرات کار اب تک منگل کی’ ڈیڈلائن‘ پر دھیان مرکوز رکھے ہوئے ہیں، جسے 30 جون کی اصل تاریخ سے ایک ہفتے کے لیے بڑھایا گیا تھا۔

پیر کے روز، ایران نے اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ مذاکرات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پیر کے دِن ویانا میں ایک اعلیٰ ایرانی اہل کار نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ، ’ہم حتمی تاریخوں میں نہیں پڑتے‘۔ بقول اُن کے، ’ہم یہ جانتے ہیں کہ امریکہ کے کچھ خیالات ہیں جن سے ضروری نہیں کہ ہر ایک متفق ہو‘۔

ممکنہ حتمی سمجھوتے کا وقت امریکہ میں ایوان نمائندگان کے لیے مضمرات کا حامل ہوسکتا ہے، جہاں کسی بھی سمجھوتے کی صورت میں ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت والی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں سخت مخالفت درپیش ہوسکتی ہے۔

جمعرات تک کسی سمجھوتے کو آخری شکل دینے کی صورت میں، آیا کانگریس کی جانب سے عائد کی گئی تعزیرات کو اٹھایا جانا چاہیئے، جائزہ لینے کے لیے امریکی ایوان نمائندگان کے پاس 30 دِن کا وقت ہوگا،جس کے بعد، قانون سازوں کے پاس سمجھوتے پر مباحثے کے لیے 60 روز کا وقت دستیاب ہوگا۔

XS
SM
MD
LG