رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما آئندہ ہفتے ویتنام کا دورہ کریں گے


ہنوئی اور واشنگٹن کے درمیان 1995 سے سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد سے دو سابق حریف ملکوں کے درمیان اقتصادی شعبے میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔

صدر براک اوباما آئندہ پیر سے ویت نام کا تین روزہ دورہ شروع کر رہے ہیں جس کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہو گا۔

یہ دونوں ملک ماضی میں ایک دوسرے کے سخت حریف رہ چکے ہیں اور ایک دہائی سے زائد عرصے سے جنگ میں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہ چکے ہیں۔

ہنوئی اور واشنگٹن کے درمیان 1995 سے سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد سے دو سابق حریف ملکوں کے درمیان اقتصادی شعبے میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔

امریکہ کے لیے ویت نام کی برآمدات اب دیگر آسیان ممالک کی انفرادی برآمدات سے بڑھ گئی ہیں جبکہ ویت نام کے لیے امریکی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ویت نام کو امریکہ کی قیادت میں طے پانے والے بحرالکاہل تجارتی معاہدے 'ٹی پی پی' میں شامل ہونے کی وجہ سے جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ملکوں پر فوقیت حاصل ہے جیسا کہ انڈونیشیا اور تھائی لینڈ ہیں جو اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔

ویت نام کے وزیر اعظم کے ایک سابق مشیر تیواونگ لای نے کہا کہ "بحرالکاہل شراکتی (معاہدہ) ویت نام کے لیے ایک نئے باب شروع کرنے کے لیے معاونت اور چینی دائرہ اثر سے باہر نکلنے کے لیے نہایت اہم ہے"۔

تاہم ٹی پی پی کو واشنگٹن میں قانون سازوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے جہاں اس کے مخالفین دیگر اعتراضات کے علاوہ یہ اعتراض بھی اٹھا سکتے ہیں کہ ان کے خیال میں ایسے ملکوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے (جہاں کی حکومتیں) جو مُطلق النعان ہیں۔

XS
SM
MD
LG