رسائی کے لنکس

logo-print

’پاکستان میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر‘


عورت فاونڈیشن کی ریجنل ڈائریکٹر مہناز رحمان وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتی ہیں کہ، ’ہرسال ملک بھر سے خواتین پر تشدد کے کیسز کے جو اعداد و شمار مرتب کئےجاتے ہیں افسوسناک بات یہ ہے کہ اسمیں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘۔

پاکستان کے صوبے پنجاب سے خبر آئی ہے کہ ایک نوجوان لڑکی کو صرف اس بات پر قتل کردیا گیا کہ وہ تیز آواز میں اپنے گھر میں گانے سن رہی تھی اور اس کو قتل کرنےوالا کوئی اور نہیں اسکا اپنا سگا چچا تھا جس نے اپنی بھتیجی کو ایک معمولی نوعیت کے جھگڑے کےبعد قتل کر دیا۔

پاکستان میں خواتین پر کئے جانےوالے گھریلو تشدد کی یہ ایک بھیانک اور انتہائی خطرناک شکل ہے، صرف پنجاب ہی نہیں پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں خواتین پر تشدد عام ہے۔

پاکستانی معاشرے میں خواتین کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات مختلف طریقوں جسمانی، ذہنی تشدد کا نشانہ بنانا اور تشدد کے بعد قتل ایک عام بنتی جارہی ہے وہیں ریاستی ادارے بھی اس تشدد کی فضا کو کم کرنے اور قوانین ہونےکے باوجود اس پر عملدرآمد کرانے میں مکمل ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

خواتین پر تشدد کے حوالے سے پاکستان میں حقوق نسواں کیلئے سرگرم تنظیم عورت فاونڈیشن کی ریجنل ڈائریکٹر مہناز رحمان وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتی ہیں کہ، ’ہرسال ملک بھر سے خواتین پر تشدد کے کیسز کے جو اعداد و شمار مرتب کئےجاتے ہیں افسوسناک بات یہ ہے کہ اسمیں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘۔

مہناز رحمنٰ کے بقول، ’تشدد میں اضافے کی بات انتہائی تکلیف دہ اسلئے زیادہ ہے کہ سول سوسائٹی، این جی اوز اور حقوق ِنسواں کی تنظیمیں اسکے خاتمے کیلئے اپنی جدوجہد کررہی ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی اسکے خلاف کئی بل اور قوانین اسمبلیوں میں پاس کئے جا چکے ہیں، اسکے باوجود ملک بھر میں خواتین پر تشدد میں ہونے والے مسلسل اضافے پر تمام حلقوں کیلئے سوچنے کا مقام ہے‘۔

مہناز رحمان کے مطابق جب تک معاشرے سے قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا اور طبقاتی نظام سے چھٹکارہ حاصل نہیں ہوگا تب تک خواتین اور مظلوم طبقوں پر ظلم ختم نہیں کیا جاسکتا۔ معاشرتی سطح پر اگر خواتین کو فیصلہ سازی کا حصہ بنایا جائے انہیں ایک عزت اور مقام دیا جائے اور انھیں ان کے جائز حقوق فراہم کئےجائیں تو خواتین پر تشدد میں کمی آسکتی ہے‘۔

عورت فاونڈیشن کی جانب سے مرتب کردہ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ برس 2013 میں خواتین پر تشدد کے 7 ہزار 8 سو 52 کیسز سامنے آئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین پر مختلف نوعیت کے ان کیسز میں خواتین پر گھریلو تشدد کے 498 کیسز رپورٹ کیے گئے تھے جبکہ کاروکاری کے 485، جنسی زیادتی کے 950، تیزاب گردی کے 43کیسز جبکہ خواتین کے قتل کے 1،485 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

گزشتہ برسوں کی بات کی جائے تو سال 2012 میں خواتین پر مختلف نوعیت کے تشدد کے 7 ہزار 5 سو 16 کیسز، 2011 میں 8 ہزار 539 جبکہ سال 2010 میں ان کیسز کی تعداد 8 ہزار تھی۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 25 نومبر کو خواتین پر ہونے والے تشدد کیخلاف عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جسکا مقصد دنیا بھر میں خواتین پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد کو روکنا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور مظالم ایک انتہائی سنگین صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG