رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: اہانت آمیز فیس بک پوسٹ پر پرتشدد احتجاج، تین افراد ہلاک


مظاہرے کے دوران تھانے کے قریب کھڑی ڈھائی سو گاڑیاں بھی نذر آتش کر دیا گیا۔

بھارت کی جنوب مغربی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں مبینہ اہانت آمیز سوشل میڈیا پوسٹ کے نتیجے میں منگل کی شب پر تشدد احتجاج شروع ہوا جس میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ شہر کے متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق شہر میں صورتِ حال قابو میں ہے۔ جب کہ اہانت آمیز پوسٹ کرنے والے ملزم سمیت 150 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کانگریس کے پولاکیشی نگر کے رکنِ اسمبلی اکھنڈ سری واستو مورتی کے بھانجے نوین کمار نے فیس بک پر اہانت آمیز پوسٹ کی تھی جس کا علم ہوتے ہی مشتعل ہجوم نے رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ کر دیا۔ جب کہ وہاں موجود گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

اس کے بعد مشتعل افراد مقامی تھانے کی طرف بڑھے۔ ہجوم میں شامل لوگوں کا الزام تھا کہ پولیس نے ملزم کو پناہ دی ہے۔

ہجوم نے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی پولیس تھانوں کو نقصان پہنچایا۔ پولیس کمشنر کمل پنت کے مطابق تھانے کے قریب کھڑی ڈھائی سو گاڑیاں بھی نذر آتش کی گئیں۔

ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس نے پہلے لاٹھی چارج اور پھر ہوائی فائرنگ کی۔

پولیس کے مطابق اس دوران 60 اہل کار بھی زخمی ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

بھارتی اخبار 'دی ہندو' کے کالم نگار اور بنگلورو کے سینئر صحافی ایم اے سراج نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوین کمار نے پوسٹ میں مبینہ طور پر پیغمبرِ اسلام کے خلاف نازیبا باتیں کی تھیں جس پر عوام کے جذبات بھڑک اٹھے۔ ہجوم نے کئی مقامات پر راستے بند کر دیے اور پرتشدد احتجاج کیا۔

ایم اے سراج کا یہ بھی کہنا تھا کہ رکنِ اسمبلی کو اس پوسٹ کا علم نہیں تھا۔ مسلمانوں میں ان کی ساکھ اچھی ہے۔ انہوں نے اپنے حلقے میں کافی ترقیاتی کام کیے ہیں۔ جب کہ وہ مسلمانوں کے بھی کام آتے ہیں۔

دوسری جانب پولیس نے ایک سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے ایک مقامی رہنما مزمل پاشا کو بھی گرفتار کیا ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے سیکرٹری ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مزمل پاشا رات بھر پولیس کے ساتھ مل کر قیامِ امن کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن صبح انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

ڈاکٹر تسلیم رحمانی کا مزید کہنا تھا کہ ایس ڈی پی آئی بنگلورو میں ایک طاقتور سیاسی جماعت ہے اور کرناٹک کی بی جے پی حکومت اسے بدنام کرنا چاہتی ہے۔ اسی لیے ایس ڈی پی آئی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے اور اس معاملے کی پورے ملک میں تشہیر کی جا رہی ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر محمد الیاس نے ایک ویڈیو پیغام میں الزام عائد کیا کہ نوین ایک ہفتے سے توہین آمیز مواد پوسٹ کر رہا تھا لیکن شکایت کے باوجود پولیس نے اس کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

انہوں نے پرتشدد واقعات کے لیے پولیس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

ادھر نوین خود کو بے قصور بتا رہا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کا فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا۔ اس نے مذکورہ مواد پوسٹ نہیں کیا۔

وزیر اعلیٰ بی ایس یدورپا نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

مذکورہ رکن اسمبلی اور سرکردہ مقامی مسلمانوں نے بھی عوام سے قیامِ امن کی اپیل کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG