رسائی کے لنکس

logo-print

کیا بھارت کا سیکولر تشخص برقرار رہ پائے گا؟


فائل فوٹو

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ ہندو احیا پسند تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ یہ سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں کہ کیا مودی حکومت بھارت کو ہندو ریاست میں تبدیل کرنا چاہتی ہے؟

دانشور طبقے اور سول سوسائٹی کی جانب سے اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت سیکولر ازم کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی درمیان نئے شہریت قانون اور مجوزہ ملک گیر این آر سی کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اکثر مظاہروں کی قیادت نوجوانوں اور بالخصوص طلبہ کے ہاتھوں میں ہے۔

ایسے حالات میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ملک کا نوجوان طبقہ سیکولر ازم، موجودہ حکومت اور شہریت قانون کے خلاف مظاہروں سے متعلق کیا رائے رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں وائس آف امریکہ نے متعدد نوجوانوں بشمول طلبہ سے بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ بھارت ہمیشہ ایک سیکولر ملک رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک پی ایچ ڈی اسکالر محمد علم اللہ کہتے ہیں کہ متنازع شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف پورے ملک میں جو مہم چل رہی ہے، وہ اس بات کی گواہ ہے کہ نوجوان طبقہ کسی بھی قسم کی فرقہ واریت اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی کے خلاف ہیں۔ ان کے بقول نوجوان اس پالیسی کو بالکل پسند نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ’ملک کے نوجوان ایک سیکولر معاشرہ چاہتے ہیں۔ وہ ایک ایسے ہندوستان کا خواب دیکھتے ہیں جو ہمارے مجاہدینِ آزادی نے دیکھا تھا اور جس کے لیے انہوں نے قربانیاں دی تھیں۔‘

علم اللہ نے مزید کہا کہ بھارت ہمیشہ سے سیکولر رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔

لیکن ابلاغ عامہ کے ایک طالب علم چندن کے خیال میں بھارت حقیقی معنوں میں کبھی بھی سیکولر ملک نہیں رہا ہے۔ ان کے بقول سیکولر ازم کا ڈھونگ کیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کے اکثریتی طبقے میں فاشزم پہلے سے تھا لیکن دبا ہوا تھا۔ آج حکومت نے اس کو ہوا دے دی ہے اور ایک اسٹیج دے دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عوام کا بہت بڑا طبقہ دائیں بازو کی پالیسیوں کی حمایت کرنے لگا ہے۔

چندن نے مزید کہا کہ ”جو کچھ آج ہو رہا ہے وہی پہلے بھی ہوتا تھا۔ لیکن پہلے در پردہ ہوتا تھا اور آج کھلم کھلا ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دائیں بازو کی کوشش ہے کہ سیکولر ازم کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ اسی لیے شہریت ترمیمی قانون لایا گیا ہے اور ملک گیر این آر سی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

وہ ایک پولیس افسر کی جانب سے بعض مسلمانوں کو پاکستان چلے جانے کی دھمکی کے تناظر میں کہتے ہیں کہ ”آر ایس ایس نے طویل عرصے تک لوگوں کی ذہن سازی کی ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ سیاست دانوں کے ساتھ اب پولیس افسران بھی ایسی زبان بولنے لگے ہیں۔

ایک اور طالب علم منظر امام کے خیال میں بھارت کے عوام نے اپنی مرضی سے سیکولر ازم کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن سیکولر ازم کا مستقبل کیا ہو گا، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ایسے حالات ملک میں پہلے بھی آئے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ عوام ان حالات پر قابو پانے میں ناکام ہو جائیں گے۔

منظر امام کے بقول آج ملک پر مشکل وقت آ پڑا ہے۔ اس کے ختم ہونے میں وقت لگے گا۔ لیکن یہ دور بھی جانے والا ہے۔

منظر امام بھی چندن کی ذہن سازی سے متعلق بات کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے بقول عوام کے بڑے طبقے میں آر ایس ایس کے نظریات پہنچا دیے گئے ہیں جو جلد نکلنے والے نہیں ہیں۔

بھارت میں جاری مظاہروں میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار کا آزادی کا نعرہ بھی گونج رہا ہے۔ کنہیا جہاں بھی تقریر کرنے جاتے ہیں ان سے اس نعرے کی فرمائش کی جاتی ہے جس میں سیکولر ازم کے تحفظ اور ہر قسم کی تفریق سے آزادی کی بات کی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG