رسائی کے لنکس

logo-print

تشدد کے باعث ہر پانچ منٹ بعد ایک بچہ ہلاک ہوتا ہے: یونیسیف


یونیسف کی ایک اعلیٰ عہدیدار سوزان بسیل نے تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ "ہم اس حقیقت سے پردہ اٹھا رہے ہیں کہ بچوں کو روز مرہ زندگی میں ہر جگہ انتہائی تشدد کا سامنا ہوتا ہے۔"

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال "یونیسف" کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بچہ تشدد کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتا ہے اور ان میں سے بہت تھوڑی تعداد کا تعلق جنگ زدہ علاقوں سے ہے۔

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق ایک اندازے کے مطابق روزانہ ہونے والی 345 اموات میں سے 75 فیصد پرامن ملکوں میں ہوتی ہیں۔

یونیسف کی ایک اعلیٰ عہدیدار سوزان بسیل نے تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ "ہم اس حقیقت سے پردہ اٹھا رہے ہیں کہ بچوں کو روز مرہ زندگی میں ہر جگہ انتہائی تشدد کا سامنا ہوتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ قابل علاج امراض میں مبتلا ہوکر مرنے والے بچوں پر خاصی توجہ دی جاتی ہی لیکن ان کے بقول بچوں کے تحفظ کے معاملے پر بھی توجہ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔

یونیسیف کی برطانوی شاخ میں بچوں کے حقوق سے متعلق شعبے کی سربراہ لیاح کریٹزمین کہتی ہیں کہ برازیل میں سال 2000 کے بعد سے قابل علاج امراض میں مبتلا ہو کر مرنے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی لیکن تشدد کی وجہ سے تقریباً 15 ہزار بچے موت کا شکار ہوئے۔

دنیا بھر میں لاکھوں بچے گھروں، اسکولوں اور سماج میں جسمانی، جنسی اور جذباتی تشدد کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔

کریٹزمین کے مطابق "ہر روز تشدد کی وجہ سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشونما مکمل طور پر متاثر ہوتی ہے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے لوگ اس معاملے کو متعلقہ حکام تک نہیں لے جاتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کچھ نہیں ہو گا۔

کینیا میں ہر تیسری لڑکی اور ہر چھٹا لڑکا جنسی تشدد کا شکار ہوتا ہے لیکن پولیس کے پاس ان واقعات کا صرف ایک فیصد ہی رپورٹ ہوتا ہے۔

سوزان کہتی ہیں کہ جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں شورش کی صورت میں حالات بچوں کے لیے مزید خراب ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم بچوں کو بہت سے تنازعات میں بچا سکتی ہے۔ یہ بچوں کو نہ صرف معمولات کی سوچ دے سکتی ہے بلکہ انھیں اس بات کا ادراک بھی دے گی کہ مسلح گروپ انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔

XS
SM
MD
LG