رسائی کے لنکس

امریکی صدارتی انتخاب: 'گہما گہمی پولنگ سٹیشن کے بجائے ڈاک خانوں میں؟'


ڈاک کے ذریعے ووٹنگ (فائل)
ڈاک کے ذریعے ووٹنگ (فائل)

کرونا وائرس کی وجہ سے تین نومبر کو ہونے والے صدارتی اور کانگریس کے لیے پوسٹل ووٹنگ کا امکان۔ امریکی سیاست کا یہ منفرد تجربہ ہوگا ، جب ساری قوم اپنا حق رائے دہی بذریعہ ڈاک استعمال کرے گی۔

پوری دنیا کی طرح، امریکہ میں کرونا وائرس اپنی پوری شدت سے پھیل رہا ہے۔ اس کے خاتمے کے بارے میں اب تک کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ان حالات میں، نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے بارے میں کئی سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور سے ووٹنگ کے طریقہ کار کے بارے میں۔

کرونا وائرس کے بارے میں جو اس وقت احتیاطی تدابیر جاری ہیں ان کے تحت تو پولنگ سٹیشن جانا ممکن نہیں ہوگا۔ اسی لیے ابھی سے الیکشن کے اہل کار اور سیاسی لیڈر متبادل طریقوں پر بحث اور غور کر رہے ہیں۔ فی الحال، 14 ریاستوں میں پرائمری انتخاب ملتوی کر دیے گیے ہیں۔

الیکشن حکام کے سامنے ملک گیر سطح پر ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کا انتظام کوئی آسان معاملہ نہیں۔ پھر یہ سوال بھی ہے کہ اتنی کم مدت اور غیر یقینی حالات میں انتخاب کے طریقہ کار کو مکمل کرنا کیسے ممکن ہوگا۔ وفاقی اور ریاستی قوانین میں تبدیلی ناگزیر ہوگی۔

ہائی پارٹیزن سینٹر کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ڈاک سے ووٹ ڈالنے کی لاجسٹک ایک بھیانک خواب ثابت ہو سکتا ہے۔ دو اعشاریہ دو بلین ڈالر کے کرونا پیکیج میں چار سو ملین ڈالر الیکشن کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس مختص رقم کے بارے میں بعض ماہرین اور سیاست دانوں کا خیال ہے کہ یہ بہت کم ہے۔ پچھلے ماہ برینان سینٹر نے ڈاک کے ذریعے مکمل ووٹنگ کا خرچہ دو سے چار بلین ڈالر تک لگایا تھا۔

ہریٹیج فاونڈیشن جیسے قدامت پسند ادارے بذریعہ ڈاک ووٹنگ کو مستند نہیں سمجھتے۔

فی الحال، بحث جاری ہے اور حالات غیر یقینی ہیں۔ تاہم، یہ طے ہے کہ کرونا وائرس نومبر کے انتخابات پر کسی نہ کسی انداز سے اثرانداز ہوگا، خواہ وہ انتخابی مہم ہو یا ووٹنگ کا طریقہ کار۔

XS
SM
MD
LG