رسائی کے لنکس

افغان صدارتی انتخابات: ابتدائی نتائج کا اعلان 18 اکتوبر سے قبل متوقع


فائل فوٹو
فائل فوٹو

افغانستان کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان 18 اکتوبر سے قبل کر دیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کے ایک کمشنر مولانا عبد اللہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن نتائج مرتب کرنے میں مصروف ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق انتخابات کے حتمی نتائج سات نومبر کو سامنے آئیں گے اگر اس میں کسی امیدوار کو حتمی کامیابی حاصل نہ ہو سکی تو انتخابات کا ایک اور دور ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان کی آبادی تین کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے جبکہ ان میں 96 لاکھ سے زائد رجسٹر ووٹرز ہیں۔ افغانستان میں ووٹ دینے کے لیے 18 سال عمر ہونا ضروری ہے۔

ملک کے 34 صوبوں میں گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں 5373 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔

افغانستان کے الیکشن کمیشن کے کمشنر مولانا عبداللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 2597 پولنگ اسٹیشنز کے ابتدائی نتائج مرتب کر لیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ تعداد مجموعی پولنگ اسٹیشنز کے نصف کے برابر ہے۔

مولانا عبد اللہ کا کہنا تھا کہ 2597 پولنگ اسٹیشنز میں مجموعی طور پر 11 لاکھ 51 ہزار 998 ووٹ ڈالے گئے۔

خیال رہے کہ انتخابات میں انتہائی کم ووٹنگ ٹرن آؤٹ پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کی رپورٹ کے مطابق اگر نتائج اسی طرح رہے تو مجموعی ٹرن آؤٹ 25 فی صد سے بھی کم ہوگا۔ جو 2001 میں طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ہونے والے چاروں صدارتی انتخابات میں کم ترین ٹرن آؤٹ ہوگا۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ صدارتی انتخابات 2014 میں ہوئے تھے۔ اس وقت ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ رجسٹرڈ ووٹر تھے جن میں سے 60 فی صد نے حق رائے دہی استعمال کیا تھا اور 70 لاکھ سے زائد افراد کے ووٹ ڈالنے کے نتائج سامنے آئے تھے۔

انتخابی مبصرین کا کہنا ہے کہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن میں امن عامہ کی صورت حال، افغان امن مذاکرات، الیکشن کی اہمیت کا اندازہ نہ ہونا اور 2018 کے پارلیمانی انتخابات میں جعل سازی کے الزامات سرفہرست ہیں۔

انتخابی مبصرین الیکشن کے دوران سکیورٹی اداروں کی جانب سے امن عامہ کی صورت حال کنٹرول میں رکھنے کے معترف ہیں۔

افغانستان انالسٹ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کے روز 29 صوبوں میں چھوٹے بڑے 400 حملے ہوئے۔ سب سے بڑا حملہ قندھار میں ہوا۔ افغان حکام نے تصدیق کی کہ قندھار میں مسجد میں قائم پولنگ اسٹیشن کے باہر دھماکہ ہوا جس میں 15 افراد زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ انتخابات میں مجموعی طور پر 14 امیدوار میدان میں تھے تاہم ان میں موجودہ صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ اور سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے افغانستان سے متعلق مشن نے کہا ہے کہ تمام فریقین انتخابات کے بعد کے پیریڈ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں جبکہ مشن نے انتخابی اداروں پر بھی زور دیا ہے کہ مقررہ وقت میں ووٹوں کی گنتی اور دیگر کام مکمل کیے جائیں۔

XS
SM
MD
LG