رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدر کا پاکستانی وزیراعظم کو فون، واہگہ دھماکے پر اظہار افسوس


ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے مطالبہ کیا کہ حکام کو اپنی حکمت عملی میں ایسے تمام عوامل کو شامل کرنے پر غور کرنا چاہیے جن سے ملک میں امن اور لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

گزشتہ اتوار کو لاہور کے قریب پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع واہگہ میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 60 افراد کی ہلاکت کی عالمی سطح پر مذمت کی گئ ، جب کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک موقر تنظیم نے حکومت سے ایسے واقعات کے تدارک کے لیے موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی احمد زئی نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو ٹیلی فون کر کے اس دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔

سرکاری بیان کے مطابق افغان صدر نے مشکل کی اس گھڑی میں اپنے ملک کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت اور عوام پاکستانیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

اتوار کی شام واہگہ میں ایک خودکش بمبار نے اس وقت خود کو اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد سے اڑا لیا تھا جب سرحد پر پرچم اتارنے کی معمول کی تقریب کے بعد لوگ واپس جا رہے تھے۔

اس دھماکے میں 60 افراد ہلاک اور 120 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی واہگہ خودکش بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی دہشت گردانہ کارروائی کا ہرگز کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے ترجمان کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ سیکرٹری جنرل نے پاکستانی عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ اس حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

ادھر امریکہ کی طرف سے بھی اس واقعے کی مذمت کے ساتھ ساتھ اس میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا کہا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی میں ان کا ملک اور پاکستان اہم شراکت دار ہیں اور اس ضمن میں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے بھی ایک بیان میں واہگہ بم دھماکے میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پاکستانی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تحقیقات میں امریکہ مناسب معاونت کے لیے بھی تیار ہے۔

ادھر انسانی حقوق کی ایک موقر تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی واہگہ میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ایسے اقدامات کرنے پر زور دیا ہے کہ جن سے اپنی مرضی سے معصوم لوگوں کو ہلاک کرنے والے دہشت گردوں کی صلاحیت کو ختم کیا جاسکے۔

ایک بیان میں تنظیم کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں اور ان میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو برباد کرنے کے دعوؤں کے باوجود دہشت گردوں کی طرف سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو نشانہ بنایا جانا ایک تشویشناک امر ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکام کو اپنی حکمت عملی میں ایسے تمام عوامل کو شامل کرنے پر غور کرنا چاہیے جن سے ملک میں امن اور لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان سے منسلک دو مختلف تنظیموں کی طرف سے قبول کی گئی تھی اور اسے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کا ردعمل قرار دیا تھا۔

15 جون کو فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے حکام متنبہ کرتے آرہے تھے کہ ان کارروائیوں کا ردعمل دہشت گردانہ واقعے کی صورت میں رونما ہو سکتا ہے لیکن ضرب عضب کے بعد ہونے والا یہ پہلا سب سے بڑا مہلک دہشت گرد حملہ تھا۔

XS
SM
MD
LG