رسائی کے لنکس

’’روز میتیں ہیں، روز جنازے ہیں‘‘: پکا پُل کی سوگ میں ڈوبی بستی


پکا پُل کا علاقہ عباسی خاندان کے نوابین کے دارالسلطنت ڈیرہ نواب صاحب سے صرف 10 کلومیٹر دور واقع ہے۔ لیکن، ریاستوں اور نوابوں کا دور ختم ہونے کے بعد امیر ترین سمجھی جانے والی ریاست بہاولپور کے یہ علاقے اب غربت کی منہ بولتی تصویر ہیں

جنوبی پنجاب سے گزرنے والی نیشنل ہائی وے پر واقع پکا پُل نامی علاقہ اور اس کے قرب و جوار کی بستیاں سوگ میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ ان پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی کمر زندگی کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے دوہری ہو چکی تھی کہ 25 جون کی صبح ان کے لیے ایک ایسے بوجھ کے ساتھ طلوع ہوئی کہ جس کا تصور ہی دل دہلا دینے والا ہے۔

کراچی سے آنے والا آئل ٹینکر ’’تیز رفتاری" کے باعث پکا پُل کے علاقے میں سڑک پر الٹ گیا۔ قرب و جوار سے لوگ ٹینکر سے بہنے والے تیل کو اپنے لیے "نعمت غیر مترقبہ" سمجھ کر اسے سمیٹنے پہنچے کہ اس سے چار پیسے ہی مل جائیں گے۔

لیکن، یہاں اچانک بھڑکنے والی آگ اور آئل ٹینکر میں ہونے والے دھماکے سے دیکھتے ہی دیکھتے 100 سے زائد افراد موت کا شکار ہوئے اور زخمی ہونے والے درجنوں کی زندگی کی آس اس بنا پر کم تھی کہ وہ بری طرح جھلس چکے تھے اور انھیں درکار علاج ان سے کئی گھنٹوں کی مسافت پر تھا۔

جمعرات کو اس واقعے کے مزید زخمی دم توڑ گئے جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 177 تک پہنچ گئی۔

پکا پُل سے تقریباً ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر بستی محراب والا واقع ہے۔ یہاں سے تعلق رکھنے والے شہزاد افضل کے کئی رشتے دار بھی اس واقعے سے متاثر ہوئے۔

ان کا علاقے میں اینٹوں کا بھٹہ ہے اور واقعے کے روز وہ صارفین سے رقوم کی وصولی کے لیے اپنے گھر سے نکلے تھے۔

28 سالہ شہزاد افضل کا کہنا تھا کہ پکا پُل کی طرف جاتے ہوئے انھوں نے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے تو سمجھے کہ شاید یہاں واقع کپاس کی فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے۔ لیکن، کچھ ہی دیر بعد انھوں نے ایک زوردار دھماکا سنا۔

"راستے میں لوگوں کو دیکھا موٹر سائیکلوں پر، ریڑھیوں پر جلے ہوئے زخمیوں کو لے جا رہے ہیں، پاس ہی ایک نہر بھی ہے وہاں بھی لوگ پڑے تھے نہ پوچھیں کیا منظر تھا۔"

واقعے کے چار روز بعد علاقے کی فضا سوگوار ہے اور لوگ اسپتالوں میں زیر علاج زخمیوں کی حالت کے بارے میں دعا تو کرتے ہیں۔ لیکن، جیسے ہی کسی زخمی کے دم توڑ جانے کی خبر آتی ہے ان کا دل بھی بیٹھنے لگتا ہے۔

شہزاد افضل کہتے ہیں کہ "ہمیں نہیں پتا عید تھی کہ نہیں، جو پہلا دن تھا وہی آج کا دن ہے، روز میتیں ہیں روز جنازے ہیں۔"

آتش گیر مواد کو اس طرح جمع کرنا موت سے کھیلنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ لیکن، اس سے قطع نظر لوگ یہاں تیل جمع کرنے پہنچ گئے؟

اس بارے میں شہزاد افضل نے کہا کہ زیادہ تر افراد "ان پڑھ ہیں، غربت کے مارے ہوئے ہیں وہ سمجھے کہ اسے بیچ کر کپڑے وغیر لے لیں گے۔۔۔میرا ایک دوست اپنی موٹر سائیکل پر گیا اور وہاں سے کچھ تیل لیا اور پھر گھر واپس آیا تاکہ کوئی بڑی کُپی برتن وغیر لے جا کر تیل جمع کرے لیکن وہ اپنے گھر پر ہی تھا کہ یہ واقعہ ہو گیا اور وہ اس سے بچ گیا۔"

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا جنوبی حصہ دیگر علاقوں کی نسبت خاصا پسماندہ ہے حالانکہ اس خطے میں کسی وقت برصغیر کے متمول ترین نوابین میں شمار ہونے والے فرمانروان بہاولپور رہا کرتے تھے۔

پکا پُل کا علاقہ عباسی خاندان کے نوابین کے دارالسلطنت ڈیرہ نواب صاحب سے صرف 10 کلومیٹر دور واقع ہے۔ لیکن ریاستوں اور نوابوں کا دور ختم ہونے کے بعد امیر ترین سمجھی جانے والی ریاست بہاولپور کے یہ علاقے اب غربت کی منہ بولتی تصویر ہیں۔

پکا پُل سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل احمد پور شرقیہ ہے جو کہ چولستان کا دروازہ (گیٹ وے) بھی تصور کی جاتی ہے کہ چولستان جانے والوں کو یہیں سے گزر کر جانا ہوتا تھا۔

بستی محراب والا سے ہی تعلق رکھنے والے ایک دانشور اور سرائیکی کے صاحب کتاب شاعر شاہد عالم شاہد کہتے ہیں کہ یہ علاقہ حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل رہنے کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری کا شکار رہا ہے۔

انھوں نے جائے وقوع کے قرب و جوار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہاں کئی بستیاں صدیوں سے آباد ہیں اور یہاں کے اکثر لوگوں کا گزر بسر کھیتی باڑی اور مزدوری پر ہے۔

"پاس ہی ایک دو بستیاں پکھی واسوں (جھگیوں میں رہنے والوں) کی بھی ہیں۔ ان کے گھر نہیں ہوتے لیکن یہ بھی چار پانچ سال سے یہیں بستے ہیں، گانے والے لوگ ہیں یہی ان کا ذریعہ معاش ہے۔ کچھ نو مسلم خاندان ہیں جنہیں دین دار کہا جاتا ہے یہ سب لوگ متاثر ہوئے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا جو لوگ یہاں کے لوگوں کو غربت یا بے شعور ہونے کا طعنہ دیتے ہیں تو یہ مقامی لوگوں کا قصور نہیں، بلکہ، ان کے بقول، اس کے لیے بھی "حکمران ہی ذمہ دار ہیں۔"

"موٹروے پر ہونے والا حادثہ غریب لوگوں کے حصے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے جن کی لاشیں اٹھی ہیں۔۔۔یہ آئل ٹینکر کسی بستی میں نہیں گرا یہ نیشل ہائی وے پر گرا ہے وہاں موٹروے پولیس گشت کرتی رہی ہے ان کا کام تھا کہ وہ لوگوں کو روکتے۔"

اس واقعے کی تحقیقات بھی شروع کی گئی تھیں اور اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس میں پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے واقعے پر فوری ردعمل ظاہر نہ کیے جانے پر تادیبی کارروائیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

حکومت نے متاثر ہونے والوں کے لیے امدادی رقوم اور لواحقین و زخمیوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے اعلانات تو کیے ہیں۔ لیکن، کہیں بہتر یہ ہے کہ جان سے جانے کے بعد دی جانے والی خطیر رقوم کو پہلے ہی سے ان پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی غربت دور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے اور ان میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ہر شہری کو تعلیم کا حق دینے کے آئینی فرض پر سنجیدگی سے عملدرآمد کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG