رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: انوکھی ’دیوار ضرورت‘۔۔.. چھوٹی سی کوشش، بڑا سا جذبہ


پریت روشن اور عماد علی بھی ایسے ہی دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں۔ لیکن دوسروں کی مدد کا جذبہ دونوں میں ایک ہی جیسا ہے۔ دونوں نے مل کر 155 سال پرانے اور کرسچن انتظامیہ کے زیر انتظام سنہ 1861 میں قائم کردہ سینٹ پیٹرک اسکول صدر کی دیوار کو نادار افراد کی مدد کا ذریعہ بنا دیا ہے

کراچی میں صدر بازار کا علاقہ اپنے اندر بہت سی خوبیاں اور انفرادیت رکھتا ہے۔ پورے شہر میں سب سے زیادہ رش تو یہاں ملتا ہی ہے۔ مختلف مذاہب کے ماننے والے بھی ایک دوسرے سے سر سے سر ملائے اپنے کام میں مگن بھی یہیں آپ کو نظر آجائیں گے۔ حتیٰ کہ مسجد، مندر، چرچ اور گردوارے بھی یہیں ذرا، ذرا سے فاصلے پر ایک دوسرے سے نظر ملائے نظر آتے ہیں۔

پریت روشن اور عماد علی بھی ایسے ہی دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں۔ لیکن، دوسروں کی مدد کا جذبہ دونوں میں ایک ہی جیسا ہے۔ دونوں نے مل کر 155 سال پرانے اور کرسچن انتظامیہ کے زیر انتظام سنہ 1861 میں قائم کردہ سینٹ پیٹرک اسکول صدر کی دیوار کو نادار افراد کی مدد کا ذریعہ بنادیا ہے۔

اس دیوار کو ’دیوارِ ضرورت‘ کا نام دیا گیا ہے۔ انگریزی میں آپ اسے ’وال آف ہیلپ‘ بھی کہہ سکتے ہیں، کیوں کہ دیوار پر انہی دونوں زبانوں میں یہی الفاظ لکھے ہیں۔

پریت روشن اور عماد علی نے پشاور اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی میں قائم اسی نوعیت کی دیواروں سے متعلق ویڈیو سے متاثر ہو کر یہ دیوار بنانے کا قدم اٹھایا۔ دیوار پر ہک لگا کر پانچ جوڑے کپڑے لٹکائے اور دو جوڑی جوتے بھی وہاں رکھ دیئے۔

پہلے دن ہی صبح گیارہ بجے کے قریب جب دونوں گیٹ سے باہر آئے تو یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ہک پر کوئی کپڑا نہیں تھا، جبکہ جوتوں کا بھی فقط ایک جوڑا ہی وہاں موجود تھا۔

مقامی میڈیا نے روشن اور عماد کی اس کاوش کو مدد کا عظیم جذبہ قرار دیتے ہوئے اسے خوب سراہا ہے۔ انگریز ی اخبار ’ڈان‘ لکھتا ہے کہ روشن کا کہنا ہے کہ ”ہمارے اس اقدام کا مقصد غریب اور نادار لوگوں کی مدد کرنا ہے، ابتدا میں تو یہاں سے صرف تین چیزیں ہی گئیں، لیکن جیسے جیسے لوگوں کو پتہ چلا تو ضرورت مند سب چیزیں ہی لے گئے‘‘۔

علی نے بتایا کہ ہم نے اسکول انتظامیہ کی اجازت کے بعد یہ کام کیا ہے اور اسکول کے الیکٹریشن نے ہی ہک لگانے میں ہماری مدد کی۔

دونوں طالب علموں نے عطیات کیلئے پہلے اسکول ہی سے مہم کا آغاز کیا لیکن پھر زیادہ لمبے عرصے تک اسے چلانے کے لئے دیگر لوگوں کی بھی مدد کی ضرورت تھی۔

علی کا کہنا تھا کہ ایک دن کوئی شخص کپڑوں سے بھرا پلاسٹک بیگ یہاں لٹکا کر چلا گیا۔ ہمیں نہیں معلوم وہ کون تھا، کیونکہ ہم عطیات دینے والوں اور یہ اشیا لے جانے والوں سے رابطہ نہیں کرتے۔

روشن کا کہنا ہے کہ وہ اس پروجیکٹ کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں اور صرف اپنے اسکول کے باہر ہی نہیں، بلکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی اس قسم کی دیواریں بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پشاور، راولپنڈی، کراچی، لاہور اور کوئٹہ میں کئی مقامات پر ’دیوارِ مہربانی‘ کے عنوان سے ایسی کئی دیواریں قائم کی گئی ہیں، جہاں صاحب استطاعت کپڑے، جوتے اور دیگر اشیا بطور عطیہ یہاں رکھ دیتے ہیں جنہیں غریب اور نادار لوگ اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق لے جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG