رسائی کے لنکس

کیا آپ ایک برس تک 'مریخ' پر زندگی گزارنے کا تجربہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟


امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی جانب سے مریخ پر زندگی گزارنے کا تجربہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

خلائی دنیا کے شوقین افراد نے 'دی مارشن'، 'مشن ٹو مارس' اور مریخ سے متعلق دیگر ہالی وڈ فلمیں تو دیکھی ہی ہوں گی۔ لیکن کیا کبھی انہوں نے یا آپ نے مریخ پر زندگی کا تجربہ حاصل کرنے کے بارے میں سوچا ہے؟

اگر ہاں تو امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی جانب سے مریخ پر زندگی گزارنے کا تجربہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو یہ موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق مریخ پر خلابازوں کو بھیجنے کی تیاری کے سلسلے میں ناسا نے 'مارس ڈیون الفا' پر ایک برس تک زندگی گزارنے کے خواہش مند چار افراد کے لیے جمعے سے درخواستیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں۔

'مارس ڈیون الفا' دراصل 1700 اسکوائر فٹ پر مبنی ایک ایسا حصہ ہے جس کا ماحول مریخ جیسا ہے اور اسے تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے امریکی شہر ہیوسٹن میں موجود 'جانسن اسپیس سینٹر' کی عمارت کے اندر بنایا گیا ہے۔

ناسا کی جانب سے اس تجربے کے لیے معاوضے پر رکھے گئے رضا کار مصنوعی مریخ کے 'مارشن ایکسپلوریشن مشن' پر کام کریں گے۔

رضاکار ایک برس کے عرصے کے دوران اسپیس واک، محدود مواصلات، خوراک اور وسائل جیسی صورتِ حال کا سامنا کرتے ہوئے یہ مشن مکمل کریں گے۔

ناسا کی جانب سے اس طرح کے تین تجربوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں سے سب سے پہلے تجربے کا آغاز آئندہ برس کیا جائے گا۔

اس تجربے کے دوران رضاکاروں کو کھانے کے لیے 'اسپیس فوڈ' ہی مہیا کیا جائے گا جس میں خشک میوہ جات، بسکٹس، اور اس طرح کی دیگر خوراک شامل ہوتی ہے۔

'مارشن ایکسپلوریشن مشن' کی رہنمائی کرنے والے سائنس دان گریس ڈوگلس کا کہنا ہے کہ 'ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے ماحول میں انسان کی کیسی کارکردگی ہو گی، ہم مریخ کی حقیقی صورتِ حال کو دیکھنا چاہتے ہیں۔'

اس مشن میں حصہ لینے والے افراد کے پاس سائنس، انجینئرنگ یا ریاضی کے مضمون میں ماسٹرز کی ڈگری یا پائلٹ کا تجربہ ہونا ضروری ہے جب کہ مشن کے لیے صرف امریکی شہریت رکھنے والے افراد ہی درخواست دے سکتے ہیں۔

مصنوعی مریخ میں زندگی گزارنے کا تجربہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی عمر 30 سے 55 برس کے درمیان ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ ان کا جسمانی طور پر صحت مند ہونا ضروری ہو گا۔

کینیڈین خلاباز کرس ہیڈ فیلڈ کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناسا کو ایسے افراد کی تلاش ہے جو خلا باز کی طرح کے ہی ہوں۔

ان کے بقول اس سے قبل روس کا مصنوعی مریخ کا مشن 'مارس 500' کا تجربہ بہتر ثابت نہیں ہوا تھا کیوں کہ اس میں شریک ہونے والے افراد کافی حد تک عام افراد جیسے ہی تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مشن کے لیے درست اشخاص کا انتخاب ہی بہترین ہو گا۔

اس خبر میں شامل بیشتر معلومات خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG