رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں جنگی جرائم ’’بلا روک ٹوک‘‘ جاری: اقوام متحدہ


عالمی کمیشن کے ارکان نے تنازعے میں ملوث دیگر ملکوں کی جانب سے ’’براہِ راست اور متحرک‘‘ فوجی شرکت پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام ’’کثیر فریقی ’پراکسی‘ لڑائی‘‘ کا مرکز بن چکا ہے

شام میں انسانی حقوق کی صورت ِحال پر اقوام متحدہ کی انکوائری کمیشن کے سربراہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ شامی حکومت کی افواج اور داعش کے ہاتھوں انسانیت سوز جرائم سرزد ہو رہے ہیں۔

کمیشن کے سربراہ، سرجیو پنہیرو نے نیویارک میں اقوام متحدہ میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’متحارب گروہوں کی جانب سے جنگی جرائم جاری ہیں، جس خون ریزی کو بند ہونا چاہیئے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’بے دریغ حملے ضرور بند ہونے چاہئیں۔ محاصرہ اٹھانے کا اقدام کیا جانا چاہیئے‘‘۔

کمیشن کے ارکان نے تنازعے میں ملوث دیگر ملکوں کی جانب سے ’’براہِ راست اور متحرک‘‘ فوجی شرکت پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام ’’کثیر فریقی ’پراکسی‘ لڑائی‘‘ کا مرکز بن چکا ہے۔

جولائی 2015ء سے جنوری 2016ء کے عرصے کے بارے میں اپنی گیارہویں رپورٹ میں، کمیشن کے ارکان نے خبردار کیا کہ ’’مخدوش شامی حکومت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے‘‘۔

سہ رُکنی کمیشن نے اپنی 30 صفحے کی رپورٹ کی تیاری کے دوران 400 سے زائد انٹرویو اور دیگر اعداد و شمار پر محیط ہے۔ تاہم، ابھی تک حکام شام تک رسائی دینے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

پنہیرو نے بقول، ’’یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG