رسائی کے لنکس

logo-print

جنگ کی وجہ سے 20 لاکھ شامی بچے تعلیم سے محروم : اقوام متحدہ


شام نے جنگ سے پہلے سب بچوں کے لیے تعلیم کا ہدف حاصل کر لیا تھا اور خواندگی کی شرح 90 فیصد ہو گئی تھی۔ تاہم اس جنگ کے پانچویں سال میں ملک میں حاصل کی گئی تعلیمی کامیابیوں کا صفایا ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں جنگ اور تشدد کی وجہ سے 20 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جا سکتے ہیں جبکہ نقل مکانی اور جنگ میں اضافے کی وجہ سے اس بات کا خطرہ ہے کہ مزید چار لاکھ بچوں کا اسکولوں میں جانا ممکن نہیں رہے گا۔

شام نے جنگ سے پہلے سب بچوں کے لیے تعلیم کا ہدف حاصل کر لیا گیا تھا اور خواندگی کی شرح 90 فیصد ہو گئی تھی۔ تاہم اس جنگ کے پانچویں سال میں ملک میں حاصل کی گئی تعلیمی کامیابیوں کا صفایا ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق فنڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے اسکول جانے کی عمر کے 64 لاکھ بچوں کی ایک تہائی تعداد تعلیم حاصل نہیں کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے بچے بھی ہیں جو کبھی اسکول گئے ہی نہیں ہیں جبکہ لڑائی، تشدد اور نقل مکانی کی وجہ سے کئی دوسرے بچوں کے تعلیم کے چار سال ضائع ہو گئے ہیں۔

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق 5,000 اسکولوں کو اس لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ جنگ کی وجہ سے تباہ ہو گئے ہیں۔ جبکہ دوسرے اسکول اس لیے کام نہیں کر رہے کہ یا تو وہاں نقل مکانی کرنے والے افراد رہائش پذیر ہیں یا پھر و ہ فوج کے استعمال میں ہیں۔

یونیسف کے ترجمان کرسٹوف بیولیرک کا کہنا ہے کہ ایک دوسرا مسئلہ اساتذہ کی کمی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 52,000 اساتذہ جو کہ شام کے اساتذہ کی کل تعداد کا ایک تہائی ہیں وہ اپنا کام چھوڑ چکے ہیں جس سے لاکھوں بچوں کے تعلیم حاصل کرنے کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔

"تارکین وطن کے بحران کو دیکھتے ہوئے ہمیں یقین ہے کہ ان لوگوں کے یورپ کا خطرناک سفر اختیار کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے کی تعلیم کے بہتر مواقع کی تلاش میں ہیں۔ اگر والدین کو اپنے بچوں کے لیے وہ تعلیم حاصل ہوتی ہے جو وہ چاہتے ہیں تو اس سے انہیں اپنے ملک میں رہنے میں مدد ملے گی"۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں تعلیمی نظام کی مکمل بربادی کو روکنے کے لیے ان بچوں کے لیے جو اسکول نہیں جاسکتے ان کے لیے ایسے پروگرام بنائے جا رہے ہیں جن سے وہ خود سیکھ سکیں۔

XS
SM
MD
LG