رسائی کے لنکس

logo-print

کیا گرم موسم کرونا وائرس کا پھیلاؤ روک سکتا ہے؟


فائل فوٹو

محققین امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے فطرت مدد گار ثابت ہوسکتی ہے جب کہ گرم موسم میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی ہو سکتی ہے۔

امریکہ کے تعلیمی ادارے 'میسی چوسسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی' (ایم آئی ٹی) کا ابتدائی تحقیق میں کہنا ہے کہ جن ممالک میں موسم قدرے گرم رہتا ہے۔ اُن ممالک میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ سست ہے۔

ایم آئی ٹی کے محققین کے مطابق کرونا وائرس ان ممالک میں سامنے آیا ہے۔ جہاں درجہ حرارت 3 سے 17 ڈگری گریڈ ہے جب کہ جن ممالک میں درجہ حرارت 18 ڈگری گریڈ سے زیادہ ہے۔ وہاں کرونا وائرس کے کیسز 6 فی صد سے کم ہیں۔

امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق اس تحقیق کے معاون مصنف قاسم بخاری کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں موسم سرد ہے۔ ان ممالک میں کرونا وائرس کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ جیسا کہ یورپ میں طب کی بہترین سہولیات ہونے کے باوجود وہاں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں اضافہ دیکھا گیا۔

قاسم بخاری کا کہنا ہے کہ امریکی ریاستوں واشنگٹن، نیو یارک اور کولوراڈو کی نسبت ایریزونا، فلوریڈا اور ٹیکساس میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ قدرے کم رفتار سے پھیلا۔

وبائی امراض کے ماہرین کابھی کہنا ہے کہ دیگر وائرسز کی طرح کرونا وائرس پر بھی موسم اثر انداز ہوسکتا ہے۔ (فائل فوٹو)
وبائی امراض کے ماہرین کابھی کہنا ہے کہ دیگر وائرسز کی طرح کرونا وائرس پر بھی موسم اثر انداز ہوسکتا ہے۔ (فائل فوٹو)

ڈاکٹر قاسم بخاری کا مزید کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے سے ممکن ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شدت میں کمی آ جائے۔ تاہم اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوگا کہ کرونا وائرس مزید نہیں پھیلے گا۔

ان کے بقول یہ ممکن ہے کہ گرم موسم کی وجہ سے کرونا وائرس ہوا اور سطح پر زیادہ دیر کے لیے قائم نہ رہ سکے لیکن پھر بھی یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف وبائی امراض کے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ دیگر وائرسز کی طرح کرونا وائرس پر بھی موسم اثر انداز ہو سکتا ہے۔

گلوبل ایڈز کو آرڈینیٹر اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کرونا وائرس کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کی رکن ڈاکٹر دیبورا برکس کا حالیہ بریفنگ میں کہنا تھا کہ نصف کرہ شمالی میں نومبر سے اپریل کے دوران زکام کا رجحان رہتا ہے۔

ڈاکٹر بخاری کا مزید کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے سے ممکن ہے کہ کرونا وائرس کی شدت میں کمی ہوجائے۔ تاہم اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوگا کہ کرونا وائرس مزید پھیلے گا نہیں۔ (فائل فوٹو)
ڈاکٹر بخاری کا مزید کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے سے ممکن ہے کہ کرونا وائرس کی شدت میں کمی ہوجائے۔ تاہم اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوگا کہ کرونا وائرس مزید پھیلے گا نہیں۔ (فائل فوٹو)

ڈاکٹر برکس کے مطابق کرونا وائرس کا رجحان بھی 2003 میں پھیلنے والی سارس کی وبا جیسا ہے۔

ان کے بقول چونکہ کرونا وائرس چین اور شمالی کوریا سے سامنے آیا ہے لہذا یہ کہنا مشکل ہے کہ کرونا وائرس کے ختم ہونے میں بھی اتنا ہی ٹائم لگے گا۔

اسپین اور فن لینڈ میں ہونے والی ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ ان ممالک میں زیادہ تیزی سے ہوا ہے۔ جہاں موسم خشک اور درجہ حرارت منفی 2 اور 10 ڈگری گریڈ کے درمیان تھا۔

ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی طرف سے کرونا وائرس کے خلاف لیے گئے جارحانہ اقدامات سے پہلے جن شہروں میں درجہ حرارت زیادہ اور مرطوب تھا۔ وہاں کرونا وائرس کا پھیلاؤ قدرے کم رفتار سے دیکھا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG