رسائی کے لنکس

logo-print

کیا کرونا وائرس کے خاتمے کا تعلق گرم موسم سے ہو سکتا ہے؟


کہتے ہیں امید پر دنیا قائم ہے۔ یہ مقولہ آج کل کرونا وائرس کے خاتمے پر پوری طرح صادق آ رہا ہے۔

فی الحال سائنس دانوں کے اعلانات، تجزیے اور پیش گوئیاں عام آدمی کو مطمئن نہیں کر پا رہی ہیں۔ یہ وائرس کب ہماری جان چھوڑے گا؟ کیسے جائے گا؟ اس کا علاج کس طرح ممکن ہے اور اس کے انسداد کے لیے ویکسین کب آئے گی؟ ان سارے سوالات کے جواب فی الحال تشنہ ہیں؟ اس گو مگو کے حالات میں ایک آسرا یہ بھی ہے کہ گرمی اس وائرس کا زور توڑ دے گی۔

مگر دنیا کے بہت سے حصوں میں موسم گرما شروع ہو گیا، مگر یہ وائرس اپنی پوری قوت سے زمین پر پیر جمائے موجود ہے۔

بعض ماہرین کہتے ہیں کہ گرمیوں میں کئی طرح کے انفیکشن ختم ہو جاتے ہیں اور شائد کرونا وائرس پر بھی کوئی اثر پڑے۔ مگر یہ بھی ایک متنازع بحث ہے؛ کچھ متفق ہیں اور کچھ اس سوچ کو نہیں مانتے۔

نزلے زکام اور انفلوئینزا کے وائرس سردی کے موسم میں زیادہ پھیلتے ہیں کیوں کہ ہوا خشک ہوتی ہے، جب کہ گرمیوں میں ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے اور بہت سے ذرات زیادہ دور نہیں جا پاتے۔

پین اسٹیٹ یونی ورسٹی کی بائلوجسٹ کیٹریاونا شیا کہتی ہیں کہ ننھے ذرات ہوا کی نمی کی وجہ سے زمین پر جلد بیٹھ جاتے ہیں۔ اسی لیے بعض سائنس دان پیش گوئی کے لیے جو ماڈل بناتے ہیں اس میں موسم کا بھی خیال رکھتے ہیں۔

یونی ورسٹی آف واشنگٹن کے پروفیسر کرسٹوفر مرے کہتے ہیں کہ موسم کا تعلق جزوی ہو سکتا ہے، یعنی گرمی بڑھنے سے اس کے پھیلاؤ میں ایک سیلشیس میں دو فی صد کی کمی آسکتی ہے۔ اور اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑنے والا۔

ایک اور تازہ ترین سائنسی مطالعے میں موسم کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور اس کے مطابق بھی تین فی صد فی سیلشیس سے زیادہ فرق نہیں پڑ سکتا۔ اس مطالعے کے شریک مصنف ہیزہر رحمان ڈاڈ کا کہنا ہے کہ گرمی سے صرف اس کی پھیلاو میں کمی آنے کا امکان ہیں۔ خاتمے کا نہیں۔

سروے میں پوری دنیا کے تین ہزار سات سو مقامات سے جمع کیےگئے ڈیٹا سے استفادہ کیا گیا، جس کا مقصد موسم اور وائرس کے پھیلاو کے درمیان تعلق کا تعین کرنا تھا۔ اس مطالعے کے مصنفین کا کہنا ہے کہ گرمی اور نمی جزوی طور پر جنوبی ایشیا میں اثر انداز ہوتی نظر آئی۔ گرم موسم وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے خطرے کو کسی حد کم کر سکتا ہے۔ مگر ان حالات میں بھی وائرس پھیل سکتا ہے، مثال کے طور پر حال ہی میں سنگاپور میں یہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دس مئی کو سنگاپور میں دکانوں کو بند کرنا پڑا۔

ایک اور ماہر کا کہنا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جبکہ ہر جگہ کا درجہ حرارت الگ الگ ہے۔ موسم کا اثر ہو سکتا ہے مگر یہ وائرس اس قدر متعدی ہے کہ اس کے پھیلنے میں اور بھی بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ اور یہ سارے عناصر اپنی جگہ بے حد اہم ہیں۔ گنجان آبادی، سماجی فاصلہ، صحت عامہ اور پھر اس مرض کی ٹسٹنگ اور متاثر ہونے والوں کی شناخت۔ یہ سب باتیں موسم سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ یونی ورسٹی آف واشنگٹن کے سائنس دانوں کے مطابق، نقل و حرکت سب سے زیادہ اہم اور اس کے بعد ٹسٹنگ۔

اس گروپ نے پہلے امریکہ میں ساٹھ ہزار کے قریب اموات کا تخمینہ لگایا تھا۔ لیکن، پچھلے ہفتے اس نے اپنے تخمینے کو دوگنا کردیا اور اب ایک لاکھ پینتیس ہزار کی بات ہو رہی ہے۔

مطالعے کے مصنف کا کہنا ہے کہ موسم کی اہمیت ہے مگر انتہائی کم درجے کی۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ وائرس کو سمجھا جائے۔ جہاں موسم شدید گرم ہو چکا ہے وہاں سے ڈیٹا حاصل کیا جائے کہ گرمی یا موسم کا اس وائرس پر کتنا اثر پڑتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG