رسائی کے لنکس

logo-print

'پینے کو پانی نہ ملا تو لوگ کیسے رہیں گے'


​​ماہرینِ ماحولیات کے نزدیک موسمیاتی تبدیلی کے علاوہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کے غیر محتاط استعمال سے ملک میں پانی کی قلت کے اثرات واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔

پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے دنیا کے 10 سرِ فہرست ملکوں میں ہوتا ہے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اب بھی موسمیاتی تغیر و تبدل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے درست سمت میں ٹھوس اقدام نہ کیے تو پہلے سے خطرناک صورتِ حال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

منگل کو دنیا کے دیگر ممالک کے طرح پاکستان میں بھی ماحولیات کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کے موقع پر ماہرینِ ماحولیات نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ملک میں اگر پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور فعال انتظامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں جہاں پاکستان جیسے زرعی ملک کی زراعت بری طرح متاثر ہو گی وہیں لوگوں کو پینے کے لیے دستیاب پانی بھی عنقا ہو جائے گا۔

ماہرینِ ماحولیات کے نزدیک موسمیاتی تبدیلی کے علاوہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کے غیر محتاط استعمال سے ملک میں پانی کی قلت کے اثرات واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان کے دریاؤں میں گزشتہ برسوں کی نسبت پانی کا بہاؤ تقریباً 60 فی صد تک کم رہا۔

پانی کی کمی کے شکار ملک میں معقول تعداد میں آبی ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان ہر سال آبی بہاؤ کا نوے فی صد ضائع کر دیتا ہے۔

ڈاکٹر قمر الزمان چودھری ماحولیاتی سائنس دان ہیں جو عالمی موسمیاتی تنظیم سے وابستہ ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ایک تو آبادی میں اضافے کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسرا ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آبی وسائل پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

"ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پانی کی کمی ہو رہی ہے۔ موسمیاتی نظام بہت شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ یا تو بہت زیادہ پانی دستیاب ہوتا ہے کہ سیلاب آجاتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر موسم خشک رہتا ہے۔ جیسے کہ اس سال ہم خشک سالی کی طرف جا رہے ہیں۔ ڈیمز اور دریاؤں میں پانی کم ہے۔ اگر ضروری انتظامات نہ کیے تو آئندہ 25، 30 سالوں میں صورتِ حال زیادہ خراب ہو جائے گی۔۔۔ لوگوں کو اگر پینے کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہوگا تو پھر لوگوں کا وہاں رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔"

ماحولیات کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم 'لیڈ' سے وابستہ بلال خالد کہتے ہیں کہ آبادی کا تیزی سے بڑھنا اور پھر شہروں کا رخ کرنا ایسے عوامل ہیں جس سے آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور وسائل پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غریب اور کم آمدن والے لوگوں پر یہ موسمیاتی اثرات زیادہ مرتب ہو رہے ہیں۔

"پاکستان پہلے ہی ایک بہت خطرناک مرحلے پر پہنچ چکا ہے۔ ہمارے پانی کے جو مسائل ہیں، ہمارے شہروں میں جو آلودگی ہے اور جس طرح کی اموات موسمیاتی آفات سے ہو رہی ہیں، پہلے ہی ہم بہت دیر کر چکے ہیں اور اس وقت ہمیں ہنگامی بنیادوں پر ضرورت ہے کہ ہم سمت کا تعین کریں کہ کس طرح ہم نے اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا ہے۔ کس طرح بڑھتی ہوئی آبادی کو مینیج کرنا ہے۔۔۔ پانی ہماری بقا کا مسئلہ ہے۔"

گزشتہ ہفتے ہی اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی حکومت نے گزشتہ ماہ ہی پانی کے لیے قومی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت آبی وسائل کے بہتر انتظامات اور آبی ذخائر کی تعمیر کے اعلان کیے گئے تھے۔ لیکن اس پالیسی کی تشکیل پر صرف ہونے والے وقت کے تناظر میں اس پر عمل درآمد بھی ایک بڑا چیلنج دکھائی دیتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG