رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ میں پانی کا بحران، لوگ عدالتی دروازہ کھٹکھٹانے لگے


اگر کوئی بالائی علاقے کا رہنے والا نہروں کا پانی روک لے یا غیر قانونی طور پر سکشن پمپس نصب کردے، تو زیریں علاقوں میں پانی کی قلت اس قدر شدید ہو جاتی ہے کہ کھیتوں اور کھلیانوں میں ’دراڑیں‘ پڑ جاتی ہیں

سندھ پچھلے ایک سال سے پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے۔ اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی کھارا ہوگیا ہے جبکہ نہریں خشک ہونے سے لاکھوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، جبکہ مویشیوں کو بھی موت نے آ گھیرا ہے۔

سندھ کا ضلع ٹھٹھہ اور دیگر ساحلی علاقے جیسے گھوڑا باری، سجن واردی، آتھرکی، دنداری، بابیو، اواسی، مور چھڈائی، ڈھانڈوا اور صوبے کے دیگر زیریں علاقے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے کو اندرون سندھ کے رہائشوں نے بتایا کہ صوبے کے زیریں علاقوں میں نہری نظام آج بھی کھیتوں کو پانی کی فراہمی کا ایک بڑا اور اہم ذریعہ ہے۔ یہ نہریں بالائی علاقوں سے زیریں علاقوں کی طرف بہتی ہیں ایسے میں اگر کوئی بالائی علاقے کا رہنے والا ان نہروں کا پانی روک لے یا غیر قانونی طور پر سکشن پمپس نصب کردے تو زیریں علاقوں میں پانی کی قلت اس قدر شدید ہوجاتی ہے کہ کھیتوں اور کھلیانوں میں ’دراڑیں‘ پڑ جاتی ہیں، جبکہ ماہی گیر بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ انہیں شکار ملنا بند ہوجاتا ہے اور نوبت فاقوں تک جا پہنچتی ہے۔

علاقہ مکینوں، گلو ملاح، یعقوب خاصخیلی، رحیم ڈنو اور قاسم کے مطابق قلت آب سے تنگ آئے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ وہ جوق در جوق دیگر علاقوں میں منتقل ہونے لگے ہیں۔ پیاس کے سبب مویشیوں کی اموات کی شرح بھی بڑھ کر کہیں سے کہیں پہنچ چکی ہے۔ اگر اب بھی متعلقہ اداروں نے پانی کی فراہمی کیلئے اقدامات نہ کئے تو یہاں بھی تھرپارکر جیسی قحط کی صورتحال پیدا ہوجائے گی۔

ٹھٹھہ کا ضلع کھاروچھان زیریں سندھ میں آتا ہے۔ یہاں کے کسانوں اور مچھیروں نے بالائی سندھ میں رہنے والے بااثر افراد کے خلاف پانی چوری روکنے کے لئے عدالت کے دروازے پر دستک دے دی ہے۔

’ایکسپریس ٹری بیون‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، درخواست دائر کرنے والوں میں پاکستا ن فشر فوک فورم (پی ایف ایف)کے چیئرمین محمد علی شاہ، مقامی کسانوں کے نمائندے محمد عثمان، مچھیروں کے نمائندے یعقوب اوڈھو اور چرواہوں کے نمائندے الیاس پیرل شامل ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نہروں کے ذریعے زیریں علاقوں تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ مبینہ طورپر چند بااثر افراد پانی روک لیتے ہیں جس کی وجہ سے سیکڑوں کسان،مچھیرے اور چرواہے پانی کی بوند بوند کو محروم ہوگئے ہیں۔

درخواست کے مطابق سیاسی وابستگیاں رکھنے والے بااثر زمینداروں کی جانب سے غیرقانونی سکشن پمپس لگانے کی وجہ سے بہت سے خاندانوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

پی ایف ایف کے چیئرمین، محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ زیریں سندھ میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے حکومت کو درخواست کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پانی کی فوری فراہمی ممکن بنانی چاہئے۔

کیلے، پان ،سبزیوں اور دھان کی فصلوں کو نقصان
زیریں ٹھٹھہ کے علاقوں میں رہنے والوں نے بتایا کہ مسلسل پانی کی قلت نے صورتحال کو سنگین کردیا ہے۔سیکڑوں ایکٹر پر پھیلی موسمی فصلیں جن میں کیلا، پان، سبزیاں اور دھان شامل ہیں، پانی نہ ملنے کی وجہ سے برباد ہوگئی ہیں۔

علاقہ مکینوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’اپ اسٹریم پر بااثر افراد نے پانی کھینچنے والے پمپس نصب کردئیے ہیں جو ان کی زمینوں کو تو سیراب کرتے ہیں لیکن باقی لوگوں کی زمینیں بنجر ہورہی ہیں۔ لوگوں کو پانی کے جائز حصے سے بھی محروم کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔‘

درخواست میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ پانی نہ ملنے کے باعث بہت سے خاندان ان علاقوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جہاں زندگی کی بنیادی سہولتیں دستیاب ہیں۔

XS
SM
MD
LG