رسائی کے لنکس

پاکستان میں پانی کی شدید قلت کا خطرہ


پاکستان میں پانی کی شدید قلت کے بارے میں اسٹیٹ بینک کی رہورٹ۔ فائل فوٹو

اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں اس خطرے سے آگا ہ کردیا ہے۔ پاکستان کے تین بڑے آبی زخائر منگلا، تربیلہ اور چشمہ میں صرف 30 دن کا پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت رہ گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو پانی کی شدید قلت کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ڈیموں میں صرف 30 دن پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت رہ گئی ہے اور کروڑوں شہری زہریلا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ یوں اسٹیٹ بینک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
زرعی ملک ہونے کے ناطے پانی کی بوند بوند پاکستان کیلئےاہم ہے لیکن یہاں تو پانی کی قلت خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، شہروں کی طرف نقل مکانی، موسمیاتی تبدیلیوں اور حکومتوں کی کوتاہیوں نے پاکستان کو پانی کی شدید قلت کے شکار 33 ممالک کی طرف دھکیل دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں اس خطرے سے آگا ہ کردیا ہے۔ پاکستان کے تین بڑے آبی زخائر منگلا، تربیلہ اور چشمہ میں صرف 30 دن کا پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت رہ گئی ہے۔

ملکی دریاؤں میں آنے والے پانی میں سے 28 ملین ہیکٹر فٹ پانی ضائع ہو کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔

عالمی معیار کے مطابق کم از کم 120 دن کا پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے جبکہ ترقی یافتہ ممالک ایک سے دو سال کیلئے پانی زخیرہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں دریاؤں کا صرف 10 فیصد پانی ہی زخیرہ ہو پاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 5 کروڑ پاکستانی آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ زیر زمین پانی میں آرسینک نامی زہر اور آلودگی شامل ہونے سے خطرناک بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔

حیدر آباد، بے نظیر آباد اور پشین سمیت سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں پانی زیرزمین 1000 فٹ نیچے چلا گیا ہے۔ رہی سہی کسر بارشوں کی قلت نے پوری کر دی۔

پاکستان میں سالانہ 500 ملی میٹر جبکہ بھارت میں 1000 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ پاکستان میں شہریوں کو فی کس 1017 کیوبک میٹر جبکہ بھارت میں 1600 کیوبک میٹر پانی دستیاب ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت اور افغانستان کے آبی منصوبے پاکستان کیلئے خطرناک ہیں۔ پاکستانی دریاؤں چناب اور جہلم پر بھارت نے بگلیہاراورکشن گنگا جیسے ڈیم بنا لیئے جبکہ افغانستان دریائے کابل پرہائیڈرو پاور منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔

اسٹیٹ بنک کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ 2030 تک پاکستان پانی کی شدید قلت والے 33 ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان آج تک اپنی واٹر پالیسی کا اعلان نہیں کر سکا۔ پہلی واٹر پالیسی کا مسودہ 2003 میں تیار کیا گیا جو تاحال مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کا منتظر ہے۔

دوسری جانب دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت میں بھی ریکارڈ اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ دیامربھاشا ڈیم کی تعمیرکا آغاز تو درکنار، منصوبے کیلئے زمین کی خریداری کا کام بھی مکمل نہ ہو سکا۔ ڈیم کی تعمیری لاگت میں 506 ارب روپے کااضافہ ہو گیا ہے۔ تعمیری لاگت 894 سے بڑھ کر1400 ارب ہوگئی۔ دیامر بھاشا ڈیم 2021 میں مکمل ہونا تھا تاہم غیرملکی فنڈنگ کا انتظام نہ ہونے سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہے،،

اس حوالے سے ارسا کے ڈائریکٹر آپریشنز خالد رانا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے حوالے سے صورتحال اس رپورٹ سے بھی ذیادہ تشویشناک ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر ہم توانائی بحران سے نکل بھی گئے تو خوراک کے بحران کی طرف جار ہے ہیں جس سے نکلنا بہت مشکل ہو گا۔

خالد رانا کاکہناتھاکہ ہمارے دریاؤں میں 144 ملین ہیکٹر فٹ پانی آتا ہےجس میں سے صرف 13.8 ملین ہیکٹر فٹ پانی ذخیرہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ سالوں میں آنے والے سیلابوں کی وجہ سے 38 ارب ڈالر کے نقصانات ہوئے ہیں۔انھوں نے کہاکہ ہمارے پانی کے ذخائر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں جن کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سال پاکستان میں ربیع کی فصل کے لیے 20 فیصد پانی کم ہونے کا امکان ہے،

خالد رانا نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اچانک سیلاب یا خوشک سالی بھی ہو سکتی ہے جس سے نمٹنے کیلئے ڈیمز کا ہونا ناگزیر ہے ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG